۱۰ مرداد ۱۴۰۰ | Aug 1, 2021
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا سربراہی اجلاس

حوزہ/ علامہ عارف واحدی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں انتہائی ہوشیاری اور بیداری کا ثبوت دینا ہوگا، عالمی سامراجی قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف عمل ہیں، ان حالات میں جو لوگ ملک میں فرقہ واریت اور انتشار کی فضا قائم کر رہے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا سربراہی اجلاس صدر کونسل صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر کی سربراہی میں منصورہ لاہور میں منعقد ہوا۔ شیعہ علما کونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے خصوصی شرکت فرمائی اور خطاب کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں موجودہ عالمی اور ملکی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں انتہائی ہوشیاری اور بیداری کا ثبوت دینا ہو گا عالمی سامراجی قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف عمل ہیں ان حالات میں جو لوگ ملک میں فرقہ واریت اور انتشار کی فضا قائم کر رہے ہیں توھین اور تکفیر کر رہے ہیں وہ اسلام کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بھی بڑی خیانت کر رہے ہیں پاکستان کے استحکام کو سب سے بڑا نقصان فرقہ واریت دے سکتی ہے اس دور میں بین المسالک ہمآنگی کے لئے کام کرنا جہاں اسلام کی خدمت ہے وہاں وطن عزیز پاکستان کے استحکام کے لئے اشد ضروری ہے ملی یکجہتی کونسل کو چاہیۓ کہ اہلبیت علیہم السلام اور صحابہ کرام کی توہین کرنے والے شرپسند عناصر کے مقابلے میں ایک ہو کر کھڑے ہو جائیں پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں کو پاؤں تلے روند کر اور ان کی ناپاک آرزو کو خاک میں ملا کر ہاتھوں میں ہاتھ دے کر آپس میں لڑنے کی بجائے امت واحدہ کےقرآنی تصور کو اپنے اتحاد کے ساتھ عملی طور پر اجاگر کریں۔

علامہ عارف واحدی نے کہا کہ اسی طرح پاکستان کے سرزمین پر ایک دوسرے کو غلیظ گالیاں دینا اور اھلبیت اطہار علیہم السلام کے قاتل یزید ملعون کو زندہ باد کہنا پاکستان کی بنیادی مقصد سے انحراف ہے حکومت اور ریاست اس کو فوری نوٹس لے۔

اجلاس کے آخر میں اتحاد و وحدت کی فضا قائم کرنے،فرقہ واریت کے خاتمے،عرب ممالک کے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور کشمیر و فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے حوالے سے ایک اہم اعلامیہ جاری کیا گیا۔ جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی صدیقہ طاھرہ حضرت فاطمۃ الزھ سلام اللہ علیھا کی توہین کرنے اور صحابہ کرام کی بے حرمتی کرنے کی شدید مذمت کی گئی-

اس اجلاس میں نئے صدر کے لئے انتخابات ہونا قرار پایا تھا لیکن ملک میں موجودہ صورت حال کے پیش نظر متفقہ فیصلے کے تحت موجودہ صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر  اور انکی کابینہ کی مدت مزید ایک سال کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 7 =