۶ آذر ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 27, 2021
علامہ حافظ ریاض حسین نجفی

حوزہ/ مجالس اہلبیت اطہارؑ اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ ہیں، تبلیغ کی ذمہ داری مکتب تشیّع پر دوسرے مسالک کی نسبت زیادہ ہے کیونکہ تشیّع کا یہ اعزاز ہے کہ رسول خدا کے حکم کے مطابق اُن کے معصوم جانشینوں کو مانتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کیلئے انبیاء بھیجے، ان میں سے پانچ اولوالعزم پیغمبر باقی انبیاء سے افضل ہیں جبکہ سیدالمرسلین خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِن پانچ میں سب سے افضل، اعلیٰ اور برتر ہیں کوئی بھی نبی اُن کے برابر نہیں ہو سکتا۔ قرآن میں انسان کو جن سے محبت کا حکم دیا گیا اُن میں اللہ کے بعد احمد مجتبیٰ سے محبت کا حکم ہے، سورہ بقرہ میں ارشاد ہوا کہ اہلِ ایمان سب سے زیادہ محبت اللہ سے کرتے ہیں۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہوا اگر اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ حضور سرور کائنات کی پیروی اللہ سے محبت کا ثبوت ہے۔ تیسرے درجے پر رسول کے قرابتداروں سے محبت کا حکم دیا گیا۔ ارشاد ہوا اے حبیب! اِ ن سے کہہ دیجئے کہ میں رسالت پہنچانے کا اجر سوائے اپنے قرابتداروں سے مودّت، محبت کے اور کچھ نہیں چاہتا۔ اِس محبت کے نتیجہ میں اللہ گناہ معاف فرمائے گا اور شُکر گزار ہو گا۔

علی مسجد جامعتہ المنتظفر میں خطاب کرتے ہوئے حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ محبت کے یہ تین درجے ہیں لیکن عملی طور پر ہم اس میں کوتاہی کرتے ہیں، اللہ سے ویسی محبت نہیں کرتے جیسے حق ہے، حضور کا ذکر بھی ہماری محافل، مجالس میں کماحقہ نہیں ہوتا جس سے محبت کا ثبوت ملے، جبکہ رسول اللہ کے قرابت داروں میں بھی دو، تین کا ذکر کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مجالس عزاء کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غور کرنا چاہئے کہ دیگر مسالک کے لوگ مجالس میں کیوں نہیں آتے؟ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ مجالس اہلبیت اطہارؑ اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ ہیں۔ تبلیغ کی ذمہ داری مکتب شیّع پر دوسرے مسالک کی نسبت زیادہ ہے کیونکہ تشیّع کا یہ اعزاز ہے کہ رسول خدا کے حکم کے مطابق اُن کے معصوم جانشینوں کو مانتے ہیں، غدیر کے اعلان کو مانتے ہیں جس میں حضور نے حاجیوں کے اجتماع میں اپنے جانشین کا اعلان فرمایا تھا۔

وفاق المدارس الشیعہ کے سربراہ نے کہا کہ تبلیغ اسلام میں مثبت انداز اپنایا جائے۔ دوسرے مسالک کے لوگوں سے قربت اختیار کریں، اُن کے ہاں جائیں اُنہیں اپنے ہاں بلائیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 0 =