۴ آذر ۱۳۹۹ | Nov 24, 2020
ڈاکٹر کلب صادق

حوزہ/ مولانا صادق کے بیٹے کلب سبطین نوری نے بتایا کہ نمونیا کی سنگین بیماری میں مبتلا ان کے 82 سالہ والد کی حالت اب بھی سنگین، لیکن مستحکم ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر اور ممتاز شعیہ عالم دین ڈاکٹر سید کلب صادق کی طبیعت ناساز چل رہی ہے جس کے پیش نظر انھیں لکھنؤ ایرا اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج چل رہا ہے، ڈاکٹروں کی ٹیم ان کو بہتر سہولیت فرام کرنے میں مشغول ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ حکیم امت ڈاکٹر کلب صادق قوم و ملت کا عظٰم سرمایا ہے۔ انھیں موجودہ دور کا سر سید کہنا غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ انھوں نے علم کا وہ عظیم سر چشمہ جاری کیا ہے جس کے سبب ایک مسالی معاشرہ جلد اپنی پہچان پوری دنیا میں روشناس کرائے گا۔

بدھ کے روز مولانا صادق کے بیٹے کلب سبطین نوری نے بتایا کہ نمونیا کی سنگین بیماری میں مبتلا ان کے 82 سالہ والد کی حالت اب بھی سنگین، لیکن مستحکم ہے۔

کلب نوری نے بتایا کہ والد محترم لکھنؤ کے ایرا میڈیکل کالج میں داخل ہیں۔ انھوں نے میڈٰکل بلیٹن میں بتایا کہ ان کے والد کو سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے۔ تاہم ، کووڈ- 19 کی تحقیقاتی رپورٹ میں انفیکشن کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ان کے بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح میں مسلسل کمی کے بعد انہیں منگل کی شام کو آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔

سبطین نوری نے کہا کہ اگرچہ والد (مولانا کلب صادق) کی حالت سنگین ہے ، لیکن اس میں مزید گراوٹ نہیں آئی ہے ۔ قابل غور ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر، مولانا کلب صادق پوری دنیا میں اپنی لبرل شبیہ کے لئے جانے جاتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر کلب صادق کی بیماری اور ان کی صحتیابی کے لئے دعاوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے خاندانی ذرائع کے مطابق ایرا اسپتال میں ان کا علاج ہو رہا ہے بلا تاخیر کے بہترعلاج فراہم کرنے میں ڈاکٹروں کا وفد کامزن ہے۔ شہر لکھنو میں ڈاکٹر کلب صادق کی بیماری کے تعلق سے سماج کے ہر طبقہ میں فکر مندی ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ ڈاکٹر کلب صادق صاحب کی بیماری کی خبر سے ہندوستان، عالم اسلام کے تمام ممالک بلخصوص ایران، ایران، پاکستان دنیا بھر کے ہر مذہب و ملت کے لوگ ان کی صحت و تندورستی کے لئے دعا کر رہے ہیں۔

ہم حوزہ نیوز ایجنسی کی جانب سے موجودہ دور کے سر سید ڈاکٹر کلب صادق صاحب کے اچھی صحت کے لئے دعا گو ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 2 =