۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
مدرسہ

حوزہ/ ان اطلاعات کے بعد جس میں کہا جارہا تھا کہ ’وزارت تعلیم کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ سے منظور شدہ تقریباً ایک سو مدارس میں مہابھارت اور رامائن کی تعلیم بھی دی جائے گی‘ حکومت نے تردید کی ہے۔

حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ’مدارس میں رامائن اور مہابھارت کی تعلیم لازمی نہیں ہوگی بلکہ یہ طلبا کی صوابدید پر منحصر ہوگا‘۔ نیشنل اوپن اسکول کے دروازے ہر شخص کے لیے کھلے ہیں، چاہیں مدرسے کے بچے ہو یا اسکول کے یا پھر کسی اور ادارے کے، وہ اردو پڑھنا چاہیں یا ہندی، سنسکرت، وید، رامائن یا دیگر مضامین پڑھنا چاہے، یہ پڑھنے والوں کی پسند ہوگی کہ وہ کیا پڑھنا چاہتے ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ کیا پڑھنا چاہتا ہے اس پر کسی طرح کی کوئی زبردستی یا زور نہیں دیا جائے گا۔ طالب علم، این آئی او ایس کے ذریعہ فراہم کردہ مضامین کے گلدستے سے پسند کے مضامین کا انتخاب کرسکتا ہے جس کےلیے وہ آزاد ہے۔

حکام کے مطابق تقریباً 100 مدارس جن میں 50 ہزار سے زائد طلبا زیرتعلیم ہیں این آئی او ایس کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جبکہ ادارے نے مزید 500 مدارس کو منظور دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ادھر جمعیۃ علماء ہند نے بھی این آئی او ایس کے نئے نصاب سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہندکے مطابق این آئی او ایس کے نئے نصاب سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ گذشتہ ماہ جمعیۃ علماء ہند نے اوپن اسکول کا آغاز کیا تھا جس کا طلبا کو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بھی آراستہ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ این آئی او ایس سیکنڈری، ہائر سیکنڈری سطح اور پیشہ ورانہ تربیت کے میدان میں اوپن اور ڈسٹنس ایجوکیشن کے ذریعہ اسکولنگ مہیا کرتا ہے۔ این آئی او ایس کا نصاب قومی اور دیگر ریاستی سطح کے اسکولوں کے تعلیمی بورڈوں کے نصاب کے مساوی ہے۔ این آئی او ایس نے اوپن بیسک ایجوکیشن پروگرام کے تینوں سطحوں پر سنسکرت، ہندی اور انگریزی میڈیم میں وید، یوگا، سائنس، پیشہ ورانہ ہنر اور سنسکرت زبان کے مضامین جیسے بھارتی علم روایت کے 15 نصاب تیار کیے ہیں۔ یہ کورسز 3، 5 اور 8 کلاس کے برابر ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 4 =