۱۶ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 6, 2021
علامہ ساجد نقوی 

حوزہ/ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ جبری گرفتار لاپتہ افراد کو طویل عرصہ تک حبس بے جا میں رکھ کر آئین و قانون شکنی کا ارتکاب نہ کیا جائے، بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق و آئین کی خلاف ورزی ہے۔ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ، شہریوں کی گمشدگی ایک سنگین مسئلہ ،جس کا حل ضروری ہے ، جبری گرفتار لاپتہ افراد کو طویل عرصہ تک حبس بے جا میں رکھ کر آئین و قانون شکنی کا ارتکاب نہ کیا جائے، بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے ۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جبری گرفتار لاپتہ افراد کے حوالے سے قانون کو مد نظر رکھا جائے کسی کیخلاف کوئی الزام ہو تو غیر جانبدار انہ تحقیق میں الزام ثابت نہ ہونے والوں کو رہا کیا جائے بصور ت دیگر اُسے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور خوف وہراس پھیلائے بغیرسرچ وارنٹ کیساتھ گرفتارکیا جائے ، ٹارچر سیلز میں نہ رکھا جائے اور قانو ن کے مطابق 24گھنٹے کے اندر کسی مجاز عدالت میں پیش کیا جائے، گرفتاری کی معقول وجوہات پیش کی جائیں، حقائق پر مبنی چالان عدالت میں پیش کیاجائے اور گرفتار شخص کو اپنے دفاع کیلئے تمام قانونی مواقع فراہم کرتے ہوئےشفاف ٹرائل کا موقع فراہم کیا جائے ۔

علامہ ساجدنقوی نے مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لیے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدہ افراد کےلئے آواز بلند کرنا بنیادی اور قانونی حق ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں ہماری ہمدردیاں لواحقین کے ساتھ ہیں ۔

آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ سالہا سال تک جبری طور پر لوگوں کو حراست میں رکھنااور ان کی فیملی کے افراد سے ملاقات نہ کروانا درست نہیں ، ان کی زندگی کے بارے میں لواحقین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو دور کیا جائے اور لاپتہ افراد کو فی الفوررہا کیا جائے ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 1 =