۱۶ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 6, 2021
سید نصرت علی جعفری

حوزہ/ حضرت علی علیہ السلام وہ واحد خلیفہ اور حاکم اسلامی ہیں جنہوں نے انسانیت اور عدالت کی بنیاد پر بیت المال تقسیم کی ہے اور اگر ہمارے معاشرے میں سماجی انصاف رائج ہوجائے تو نہ جانے کتنی مشکلات از خود حل ہوسکتی ہے۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید نصرت علی جعفری نمائندہ آیۃ اللہ العظمی جوادی آملی حفظہ اللہ نے یوم شہادت امیرالمونین علیہ السلام کی مناسبت سے اجتماعی عدالت حضرت علی (ع) کی نگاہ میں تعلق سے اشارہ کیا۔ انہوں نے آیت کریمہ سے آغاز کیا: قال اللہ تبارک و تعالی:  یملا الارض قسطا وعدلا اس ضمن میں  لبنان کا مشہور عیسائی جارج جرداق  نے ایک  کتاب لکھی؛  الامام علی صوت عدالہ الانسانیہ؛ امام علی ندائے عدالت انسانی ،اس لئے کہ  عدل و انصاف کے بغیر اسلام اور ایمان بے معنی ہے۔

انہوں نے بیان کیا کہ عدل ہر دل کی پکار ہے لہذا عدل کے نام پر آپ ہر گھر میں اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں ، حضرت علی علیہ السلام وہ واحد خلیفہ اور حاکم اسلامی ہیں جنہوں نے انسانیت اور عدالت کی بنیاد پر بیت المال تقسیم کی ہے اور
اگر ہمارے معاشرے میں سماجی انصاف رائج ہوجائے تو نہ جانے کتنی مشکلات از خود حل ہوسکتی ہے۔ 

مزید کہا کہ جب کسی صحابی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا؛ مولا میری قدر و منزلت آپ کے نزدیک کیسے بن سکتی ہے تو آپ نے جواب دیا جس طرح علی مرتضی کی قدر و منزلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوسبب کی وجہ سے بہت زیادہ تھی۔ (1) صادق القول یعنی قول میں صدق و صفا (2) امانت میں دیانت داری۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مولا علی نے علم و عدل کے محور پر آپ نے اپنی پوری زندگی گزار دی بھاگتے ہوئے کا کبھی پیچھا نہیں کیا اور سامنے آجانے والے کو کبھی واپس جانے نہیں دیا  چیونٹی کے منہ سے دانہ چھیننا عدالت کے خلاف سمجھتے تھے ، علی نے عدالت کو اس کا مقام دیکر بتا یا ولتکن منکم امہ یدعون الی الخیر  یعنی علم کی کثرت خیر ہے اور دنیا میں مال و اولاد یا اور کوئی چیز خیر نہیں ہے اجتماعی عدالت سے کام لینا  خیر ہی خیر ہے لہذا جب ضرار ابن ضمرہ شام گئے تو حاکم نے اپنے یہاں بلوایا اور بہت اصرار کیا علی کے متعلق کچھ بتاو  انہوں نے انکار کیا پھر کافی اصرار کے بعد  کہا علی کی شہادت علم و عدالت پر ہوئی تو پھر معاویہ نے پوچھا علی کی جدائی پر تم لوگوں کا حال کیسا ہے!۔

تو ضمرہ نے کہا ان  کی جدائی پر ہم لوگوں کا حال ایسا ہی ہے جیسے  کسی  ماں کی اغوش میں بچہ کو ذبح کردیا جائے اور وہ ہمیشہ  اس بچہ کی یاد میں تڑپ تڑپ کر روتی رہے وہی حال ہم لوگوں کا ہے ان کی جدائی ہم پر  بہت شاق گزری جس کے نتیجہ میں ہمارے قلوب ہمیشہ محزون و مغموم رہتے ہیں کیونکہ علمبردار عدالت ہم سے رخصت ہوگئے جو عدالت اجتماعی کا مرکز و محور تھا وہ 21 رمضان میں ہم سے جدا ہوگیا اس غم کو ہم کبھی نہیں بھول سکتے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 7 =