۳ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 25, 2021
ڈاکٹر عبدالغفور راشد

حوزہ/ نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی بربریت کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی،امریکہ کی طرف اسرائیلی مظالم کی مذمت نہ کرنا شریک ہونے کے مترادف اور بے ضمیری کی انتہا ہے اقوام متحدہ بھی امریکی لونڈی اور اسرائیل کی محافظ بن چکی ہے، عالم اسلام کا اتحا د ہی فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو یقینی بناسکتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے فلسطین پر ناجائز صیہونی اسرائیلی فوج کے حملوں پر عالمی برادری کی خاموشی کو جرم قراردیتے ہوئے کہا ہے عالم اسلام کا اتحا د ہی فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو یقینی بناسکتاہے۔ افسوس انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معاملات پر واویلا کرنے والے جمہوریت پسند اور حق خود ارادیت کے دعویدار ممالک بھی گونگے بہرے ہوگئے ہیں۔ انہیں فلسطین میں انسانی جانوں کا ضیاع اور فلسطینیوں کی بستیاں مسمار ہوتی نظر نہیں آرہیں۔ بچوں کے سامنے ماوں کو مار ا جارہا ہے۔ اسرائیلی بربریت کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

السراج اسلامک ریسرچ سنٹرمیں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کہا کہ مسلمان ممالک کو فلسطین اور کشمیر پر ایک موقف اختیار کرنا چاہیے۔ مسئلہ فلسطین حل ہونے تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات ختم کریں ۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف اسرائیلی مظالم کی مذمت نہ کرنا اس کے جرائم میں شریک ہونے کے مترادف اور بے ضمیری کی انتہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاوسز کے دفاتر الجلا ٹاور کو مسمار کرنے کا انتہائی اقدام جنگی جرائم میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ بھی امریکی لونڈی اور اسرائیل کی محافظ بن چکی ہے۔ اس ناز ک صورت حال میں مسلم ممالک کو اپنا عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ مگر افسوس سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں کیا جارہا ۔

نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نے کہا کہ باہمی انتشار، فرقہ واریت اور مختلف بلاکوں میں تقسیم مسلمانوں کی کمزوری بن چکی ہے۔ مسلم ریاستوں کے سربراہوں کو مل بیٹھ کر فلسطین کی جدوجہدآزادی کی بھر پور حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔ قابض اسرائیلی تعداد میں بہت تھوڑے ہیں لیکن منظم ہیں، کافر قوتیں صیہونی ریاست کی پشت پر کھڑی ہیں، جبکہ انتشار کا شکار مسلمان اپنی مرکزیت کھو بیٹھے ہیں۔

اخر میں انہوں نے مسلم حکمرانوں سے اپیل کی کہ سرزمین انبیاءفلسطین کی آواز بن کر جراتمندانہ عملی اقدامات اٹھائیں ، باتیں اور بیانات بہت ہوچکے ،اب ضرورت ہے کہ عملی کردار ادا کیا جائے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 0 =