۵ مهر ۱۴۰۰ |۱۹ صفر ۱۴۴۳ | Sep 27, 2021
آغا سید حسن الموسوی الصفوی

حوزہ/ انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے کہا کہ مدینۃ المنورہ کے مقدس قبرستان جنت البقیع میں شہداے اسلام اور اہلبیت و اصحاب نبوی ؐ کے مرقد ہاے مطہرہ کو مسمار کرنے کی حکومت آل سعود کی مذموم کاروائی مسلمانان عالم کے جذبات عقیدہ اور عقیدت کی بدترین توہین کا دلخراش واقعہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،انہدام جنت البقیع کی برسی کے موقعہ پر جاری بیان میں انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت السلام و المسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ یہ سانحہ امت مسلمہ کے لئے ایک ناقابل فراموش صدمہ ہے جس پر آج تک اہل عشق و عقیدت کے دل مغموم اور آنکھیں اشکبار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مدینۃ المنورہ کے مقدس قبرستان جنت البقیع میں شہداے اسلام اور اہلبیت و اصحاب نبوی ؐ کے مرقد ہاے مطہرہ کو مسمار کرنے کی حکومت آل سعود کی مذموم کاروائی مسلمانان عالم کے جذبات عقیدہ اور عقیدت کی بدترین توہین کا دلخراش واقعہ ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ جنت البقیع کا تقدس اور تاریخی اہمیت کسی بھی مسلمان سے پوشیدہ نہیں رسول اسلام ؐ بذات خود اس مقدس قبرستان میں حاضر ہو کر زیارات قبور بجا لاتے تھے یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اس قبرستان میں شہداے اسلام اور اہلبیت ؑ و اصحاب رسولؐ کی قبروں پر روضے تعمیر کئے تھے جو  صدیوں تک دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت اور عشق کا مرکز بنے رہے اس دوران عالم اسلام میں سینکڑوں بلند قامت علمائے دین، محدثین اور مفسرین پیدا ہوئے کسی نے بھی ان روضہ جات پر سوال نہیں اٹھایا صرف سوا سو سال پہلے وجود میں آئی وہابیت نے اپنے خود ساختہ نظریات کی ترویج کے لئے سب سے پہلے جنۃ البقیع کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دینی جذبات کو مجروح کیا۔

آغا صاحب نے کہا کہ امت مسلمہ ان مسمار کردہ مقدسات کی از سر نو تعمیر کی اجازت کے منتظر ہے اور ہر طرف یہ مطالبہ دہرایا جا رہا ہے کہ جنت البقیع کی شان رفتہ کی بحالی کے لئے ضروری اقدام کئے جائے اتر پردیش میں ایک 100سالہ قدیم مسجد شریف کو وہاں کی ریاستی بی جے پی سرکار کی چھتر چھایا میں مسمار کرنے کی مذموم کاروائی پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ یہ بی جے پی کا ایک اور جنونی اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان تاریخ کے ایک سنگین دور سے گزر رہے ہیں جہاں انکی جان و مال،عزت و آبرو اور دینی مقدسات کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 2 =