۵ مهر ۱۴۰۰ |۱۹ صفر ۱۴۴۳ | Sep 27, 2021
حجت الاسلام تقی عباس رضوی

حوزہ/ اہل بیت فاؤنڈیشن کے نائب صدر نے کہا کہ :آج کی دنیا کی عجیب بدلتی ہوئی صورتحال ہے کہ ظلم و ستم کے خلاف بولنے والے لوگ جرم کے مستحق ٹہرائے جاتے ہیں اور جو ظالم کے ساتھ کھڑا ہے وہ صلح و امن کا دیوتا اور نوبل انعام کا حقدار ہوجاتا ہے!۔

حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ہندوستان کے معروف محقق و مؤلف اور اہلِ بیت فاؤنڈیشن کے نائب صدر نے کہا کہ: ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ظالم کی مدد کرنا اور سماجی فتنوں کو ہوا دینا ہے۔ 

حجۃ الاسلام تقی عباس رضوی نے کہا کہ :فلسطین میں ماہ رمضان کے آخری عشرے سے جو دلخراش اور نہایت ہی ناگوار سانحات رونما ہوئے جس کا سلسلہ ھنوز ھم جاری و ساری ہے وہ ہر آزاد انسان کے دل کو مغموم اور متأثر کررہے ہیں مگر! انسانی حقوق کے دعویدار، اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے کمیشن، تنظیموں اور کارکنانوں کا دل نہیں پسیجتا اگر انہوں نے فلسطین کے نہتے، بے بس اور مظلوم انسانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی مذمت کی ہوتی تو اسرائیل اِن وحشیانہ حرکات سے باز آجاتا۔یہ حملہ محض فلسطین پر ہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کے دعویداروں اور تنظیموں کے آئین و اصول پر بھی ایک خطرناک حملہ ہے ۔اسرائیل فسلطین کے تعلق سے اقوام متحدہ سے منظور ہوئی قراردادوں کو بھی اپنے پیروں تلے روندرہا ہے جس کی وجہ اس کی بے حسی، خاموشی اور اس کے خلاف پختہ قدم نہ اٹھانا ہے. 

موصوف نے کہا :اگر عالمی برادری، اسلامی سربراہی کانفرنس بالخصوص اقوام متحدہ چاہتا تو اپنا مثبت رول ادا کرکے فلسطینیوں پر ٹوٹنے والے کوہ ستم کو روک انہیں ان کا حق دلا سکتی تھی جس کے لئے وہ تقریباً تہتر سالوں سے اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔

ہندوستان کے معروف محقق و مبلغ حجت الاسلام تقی عباس رضوی نے کہا کہ : اقوام متحدہ کو اپنے اصولوں پر ہی عمل درآمد ہوکر آج اسرائیل کی جارحیت پر ٹھوس قدم اٹھا کر دنیا والوں کے سامنے اپنا منصف کردار دکھانا چاہیئے تھا کہ جس طرح برطانوی سامراج نے مسئلہ فلسطین کو 1947ء میں اقوام متحدہ کے حوالے کیا تھا اور اس نے دو دسمبر1977ء میں یہ فیصلہ کیا کہ 1978ء سے 29 نومبر کو فلسطینیوں سے یکجہتی کا دن عالمی سطح پر منایا جائے گا تو کم از کم آج اس مشکل وقت میں کہ جب اسرائیل طاغوتی طاقتوں کی شہہ پر فلسطینی عوام سے ان کے جینے کا حق چھین لینے کی کوشش کررہا ہے تو اسے اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے تھا مگر!اکبر الہ آبادی کے بقول :
رونا تو ہے اسی کا کوئی نہیں کسی کا دنیا ہے اور مطلب، مطلب ہے اور اپنا۔۔۔۔

اہل بیت فاؤنڈیشن کے نائب صدر تقی عباس رضوی نے کہا کہ :آج کی دنیا کی عجیب بدلتی ہوئی صورتحال ہے کہ ظلم و ستم کے خلاف بولنے والے لوگ جرم کے مستحق ٹہرائے جاتے ہیں اور جو ظالم کے ساتھ کھڑا ہے وہ صلح و امن کا دیوتا اور نوبل انعام کا حقدار ہوجاتا ہے!۔

موصوف نے سوشل میڈیا پر کچھ بد وضع، بے شعور شر پسند عناصر کی طرف سے ایران مخالف پوسٹ کے پیش نظر اپنی گفتگو میں کہا کہ :ایک طویل مدت سے جمہوری اسلامی ایران فلسطین کے مستضعفین کا مددگار اور دنیا میں مظلوموں کا ساتھی بن کر کھڑا ہے تو وہ عالمی سامراجوں اور ان کے نمک خوار حواریوں کی نظر میں کھٹکتا ہے اور اس پر ہر طرح کے الزامات تراشے جاتے ہیں حالانکہ سچ اور حق یہی ہے کہ اگر ایران نہ ہوتا تو امریکہ و اسرائیل یوں تو لوگوں کے دلوں و دماغ پر قابض ہے ہی ان کی سرزمینوں پر مسلط ہوجاتے اس لئے کہ ان کی دیرینہ تمنائيں اور منظور شدہ قرار داد یہی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کر اس پر قابض ہو جائیں مگر!۔

ظلم کو صبر کے طوفان سے ڈر لگتا ہے عاشق بوزر و سلمان سے ڈر لگتا ہے۔
 اے خمینی تیری تسبیح کے دانوں کی قسم 
کفر کو آج بھی ایران سے ڈر لگتا ہے

حجۃ الاسلام تقی عباس رضوی نے کہا :بہر حال! ذلت و رسوائیاں ہی ان لوگوں کا مقدر ہے عنقریب اسرائیل اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ ذلت کے گہرے سمندرمیں ڈوب جائے گا۔ مسجد اقصٰی پر حملہ کی شروعات اسلام مخالف درینہ دشمن اسرائیل کے ہاتھوں  ہوچکی ہے لیکن اسکا اختتام ان شاء اللہ فرزندان توحید ایران کے غیور نوجوانوں کے ہاتھوں سے ہوگی. انشاءاللہ 

نہ ہمسفر نہ کسی ہمنشیں سے نکلے گا
 ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

بزرگ کہتے تھے اک وقت آئے گا جس دن
جہاں پہ ڈوبے گا سورج وہیں سے نکلے گا

اہل بیت فاؤنڈیشن کے نائب صدر نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ :البتہ اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ بیت المقدس، ایک تاریخی یادگار ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے جس کی اہمیت و فضیلت سے نسل نو کو آگاہ کئے بغیر اس کی آزادی اور بازیابی کی تحریک مستحکم نہیں ہوسکتی!۔

اس تحریک کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کے لئے مسجد اقصٰی کی تاریخ اور موجودہ صورتحال کے بارے میں نسل نو کو آگاہ کرنے میں علماء اور دیگر افراد کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے کہ آج ہمارے درمیان بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ یہ دو گروہوں کی لڑائی ہے اس سے آن کا کیا تعلق،  فلسطین سمجھے اور اسرائیل؛ حالانکہ یہ فلسطین کا نہیں اسلام کی عزت و وقار کی جنگ ہے مسجد اقصٰی محض ایک مسجد نہیں بلکہ یہ برکات خداوندی کا مرکز بھی ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 9 =