۶ مهر ۱۴۰۰ |۲۰ صفر ۱۴۴۳ | Sep 28, 2021
News Code: 370754
25 جولائی 2021 - 03:11
شیخ حر عاملیؒ

حوزہ/ محمد بن حسن بن علی بن محمد بن حسین ؛ جو کہ ’’ شیخ حر عاملیؒ ‘‘ کے نام سے معروف ہیں اور علمائے امامیہ میں سے ایک بزرگ عالم دین اور شیعوں کے نامور محدث ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی। محمد بن حسن بن علی بن محمد بن حسین ؛ جو کہ ’’ شیخ حر عاملیؒ ‘‘ کے نام سے معروف ہیں اور علمائے امامیہ میں سے ایک بزرگ عالم دین اور شیعوں کے نامور محدث ہیں۔ آپ آٹھ رجب المرجب ۱۰۳۳ھ ۔ ق جمعہ کی رات بقاع کے علاقے میں لبنان کے ایک دیہات مشغرہ میں پیدا ہوئے اور اپنے چچا شیخ محمد حر اور اپنے نانا شیخ عبد السلام بن محمدحر اور اپنے باپ کے ماموں شیخ علی بن محمود اور کتاب المعالم کے مصنف اور شیخ حسین ظھیری سے علم حاصل کیا ۔ چالیس سال اسلامی ممالک کا سفر کرتے رہے اور دو بار حج کے لئے مشرف ہوئے،اپنے دینی پیشواؤں کی زیارت سے واپسی پر تھوڑی مدت کے لئے خراسان اور اصفھان میں ٹھہرے۔ اور یہاں پر بزرگ علمائے دین کے ساتھ ملاقاتیں کی اور علمی مباحثے بھی انجام دیئے۔ آپ جب تک اصفھان میں رہے بغیر کسی اجازت کے شاہ سلیمان کے دربار میں جاتے اور ان کے ساتھ مسند پر بیٹھتے۔

۱۰۷۳ ھ ۔ ق میں مشھد تشریف لائے اور یہیں پر ساکن ہوگئے آپ ۳۱ سال تک مشھد میں رہے اس دوران آپ دوبارہ حج اور آئمہ معصومین علیھم السلام کی زیارت سے شرفیاب ہوئے اور درسی گروہ تشکیل دیئے اور تفصیل وسائل الشیعہ کی تدریس شروع کی اورشاگردوں کی تربیت کی جن میں سے چند ایک میرزا علاء الملک فرزند میرزا ابی طالب علوی موسوی(۱۵ ربیع الثانی ۱۰۸۶ میں) اور علامہ مجلسی کی طرف سے اجازت تھی اور مجلسی اوّل اور سید جزائری اور شیخ علی سبط سے حدیث نقل کرنے کی اجازت رکھتے تھے یہاں تک کہ ۲۱ رمضان۱۱۰۴ ھ۔ ق میں اس دار فانی سے چل بسے اور مدرسہ میرزا جعفر کے نچلے طبقے میں جو کہ صحن انقلاب کے ساتھ متصل تھا دفن کئے گئے۔

شیخ حرم عاملی سے بہت سے نفیس اور گرانقدر آثار باقی ہیں جن میں سےچند ایک کے نام یہ ہیں: الجواھر السنیہ فی الاحادیث القدسیہ، الصحیفہ الثانیہ من ادعیہ علی بن الحسین(ع)، تفصیل وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ ، ھدایہ الامہ الی احکام الآئمہ علیھم السلام، فھرست وسائل الشیعہ، الفوائد الطوسیہ ، اثبات الھدہ بالنصوص والمعجزات، امل المل فی علما، جبل عامل ، رجعت میں ایک رسالہ، صوفیأ کی ردّ میں ایک رسالہ، فصول المھمہ فی اصول الأئمہ، العربیہ العلویہ والغہ المرویہ، دیوان شعر اور دوسری چند ایک کتابیں۔

شیخ (رہ) ان کتابوں کی تصنیف کی وجہ سے شیعوں پر بہت زیادہ حق رکھتے ہیں ۔ وسائل کی تصنیف پر بیس سال سے زیادہ عرصہ لگا۔ اس کی تألیف کے بعد شیخ (رہ) اس کی فھرست بندی میں مشغول ہو گئے اور ھدایہ الامہ و فصول المھمہ کو اسی مجموعہ سے انتخاب کیا ۔ آپ نے اپنی عمر کا آخری حصہ وسائل کی شرح لکھنے پر صرف کیا۔ آپ کا میر محمد تقی بن محمد صادق موسوی کو شعبان ۱۱۰۰ھ۔ ق میں اجازت سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے بہت ہی کم مقدار میں لکھا تھا اور تحریر وسائل الشیعہ کے نام سے دسویں باب تک جو کہ الماء المضاف کے ابواب میں سے ہیں ابھی موجود ہے۔ 

آپ کے فرزند شیخ محمد رضا بھی فقاہت اور علم میں اپنے والد سے کم نہ تھے،۱۱۱۰ ہجری قمری میں آپ نے وفات پائی اور ان کو اپنے والد کے ساتھ دفن کیا گیا۔

حالِ حاضر میں مرقد شیخ حرعاملی روضہ امام رضا علیہ السلام کے "صحن انقلاب " میں زائرین اور عقیدت مندوں کی آماجگاہ ہے۔مقبرہ کی تزئین و آرائش کاکام ۱۳۶۵ ھ۔ش میں مکمل ہوا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 6 =