۷ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 29, 2021
حرم رضوی

حوزہ/ امام رضا علیہ السلام کے علم کی مدح سرائی اہل سنت کے معتبر علماء اور دانشمند کرتے ہوئے نظرآتے ہیں جیسے ابن حجر عسقلانی اور سمعانی کہتے ہیں:"حضرت امام رضا علیہ السلام اہل علم و فضل میں سے تھے اور نسبی شرافت کے حامل تھے۔

از قلم: مولانا سید رضی زیدی پھندیڑوی دہلی 

حوزہ نیوز ایجنسیآپ کا اسم گرامی ابوالحسن علی بن موسی رضاؑہے آپ 11 ذیقعدہ 148ھ بروز جمعرات یا جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔(حیاة السیاسیہ للامام الرضا،ص168) عباسی خلیفہ، مامون نےآپ کومدینہ سے زبردستی خراسان بلایا اور اپنی ولیعہدی قبول کرنے پر مجبور کیا۔ آپؑ نےمدینہ سے خراسان جاتے ہوئے نیشاپور میں ایک حدیث ارشاد فرمائی جوسلسلة الذہب کے نام سے مشہور ہے۔ مامون نے اپنے خاص مقاصد کی خاطر مختلف ادیان و مذاہب کے اکابرین کے ساتھ آپ کے مناظرے کروائے جس کے نتیجے میں یہ سارے اکابرین آپ کے علم وفضل کے معترف ہوگئے۔ آپ علم اور شرافت میں خود بے مثال ہیں، آپ کا علم اس قدر نمایاں اور درخشاں ہے کہ آپ  کو عالم آل محمدؐ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ محمد ابن اسحاق اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ساتویں امام اپنے بیٹوں کو اس طرح وصیت فرماتے تھے :"اخوکم علی بن موسی عالم آل محمد فاسألوه عن ادیانکم و احفظوا ما یقول لکم، فانی سمعت ابی جعفر بن محمد غیر مرة یقول لی: ان عالم آل محمد لفی صلبک، ولیتنی ادرکته فانہ سمی امیر المؤمنین علی؛ تمہارے بھائی علی بن موسی عالم آل محمدؐ ہیں ، اپنے دینی مسائل ان سے پوچھو اور وہ جو کچھ تم سے کہیں انھیں یاد رکھو۔ میں نے اپنے والد جعفر ابن محمدؐ سے بارہا سنا ہے کہ مجھ سے فرماتے تھے: بے شک عالم آل محمدؐ  آپ کے صلب میں ہیں، اے کاش میں ان کو درک کرتا، کیونکہ وه امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ہمنام ہیں" ( بحار الانوار، مجلسی، ج‏49، ص‏100؛ کشف الغمه، اربلی، مکتبة بنی هاشم، ج‏3، ص‏107)
آپ کے وجود بابرکت سے علم کے چراغ روشن ہوتے رہے ہیں اور آپ نے اپنے زمانہ ہی میں علمی تحقیق کی بنیاد  رکھ دی تھی جو آج انسانی سفرکو پرسکون بنا رہی ہے۔ہم یہاں پر چندنمونے علمی اور عبادی سیرت کےذکر کر رہے ہیں:
علمی نشستوں کا انعقاد:آپ نےعلمی نشستوں کا انعقادکیا، ان نشستوں کی راہ کو ہموار  اور  اس راہ میں آنے ولی رکاوٹوں کودورکیا  تا کہ اہل نظر آسانی اور آزادی سے تحقیق و مطالعہ کرکےسماج کے مسائل کا حل نکال سکیں- 
مختلف شعبوں میں علمی حلقے تشکیل دیئے اور مختلف علمی موضوعات پر بحث ہونےلگی۔ اسی دور میں متعدد کتب خانوں کی بنیاد رکھی گئی؛ تشنہ گان علم کے لئے تحقیق اورتحصیل علم کے بھرپور مواقع فراہم کئے گئے اور اہل علم اور دانشوروں کو اسلامی مملکت میں اکٹھا کیا گیا-حکومت نے تقریباً تیس مدارس قائم کئے تھے جن میں مدرسہ نظامیہ سب سے زیادہ مشہور ہوا- ان مدارس میں عمومی کتب خانے قائم کئے گئے جن میں سب سے مشہور کتاب خانہ دارالحکمہ نام کا تھا- (امام رضا ؑ کی زندگی میں باریک بینانہ تحقیق، شریف قرشی، ج2، ص283)
امام رضاؑ  کے دور کی علمی تحریکوں میں سے ایک اہم تحریک ،بیرونی زبانوں میں موجود کتابوں کی عربی زبان میں تراجم کیے جیسے: طب، ریاضیات، فلسفہ، سیاسی علوم Political Science ، علم نجوم Astrology وغیرہ جیسے علوم میں تحقیق نے علمی تحقیقات کے جذبے کو تقویت پہنچائی۔
علمی نقشہ جات کےموجد: اس دور کی علمی تحریک میں عالمی نقشہ جات کی تخلیق  اور تیاری  امام کی تحریک کا نتیجہ ہے۔مامون  کے حکم سے پوری دنیا کا نقشہ تیار کیا گیا،  اس نقشہ کو نقشہ مامون کا نام دیا گیااور یہ دنیا کا پہلا عالمی نقشہ تھا جو عباسیوں کے دور میں وجود میں آیا۔
علم طب: یہ علم، امام ؑ کے دور کا ثمرہ ہے اورامام ؑ نے علم طب کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کیا- آپ نے علم طب میں ایک رسالہ تحریرکیا جو رسالہ ذہبیہ  کےنام سے جانا جاتا ہے- امامؑ کی جانب سے اس رسالہ کی تصنیف کے بعد عباسی خلیفہ نے بھی اس سلسلہ میں تحقیق اور حصول علم کا حکم دیا اور لوگوں کو علم طب حاصل کرنے کی ترغیب دلائی ۔اس کے علاوہ اور دوسرے علوم جیسے:علم کیمیا،معماری اور انجنیئرنگ کی تحقیقات،جن کی بنیاد  امامؑ کے زمانہ ہی میں رکھی جا چکی تھی۔
امام رضاؑ کے دور میں علوم و فنون کی ترقی کے مظاہر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں اسلامی تمدن و تہذیب نے کتنی ترقی کی تھی اور مسلم معاشرہ میں علم اور تجربات(سائنس) کو کتنی اہمیت دی جاتی تھی۔
امام رضا علیہ السلام کے علم کی مدح سرائی اہل سنت کے معتبر علماء اور دانشمند کرتے ہوئے نظرآتے ہیں جیسے ابن حجر عسقلانی اور سمعانی کہتے ہیں:" و کان الرضا من اهل العلم و الفضل مع شرف النسب؛ حضرت امام رضا علیہ السلام اہل علم و فضل میں سے تھے اور نسبی شرافت کے حامل تھے۔( تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی ، دارالکتب العلمیه، ج‏7، ص‏328؛ الانساب، سمعانی ، دارالکتب العلمیه، ج‏3، ص‏74)
جس طرح آپ علمی میدان میں بہت آگے ہیں اسی طرح سے عملی دنیا میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔آپ کی عملی سیرت کے چند نمونے مندرجہ ذیل ہیں:
امام کا قرآن سےلگاؤ:مامون امتحاناً، امام رضا علیہ السلام سے ہر چیز کے متعلق سوال کیا کرتاتھا اور امام علی رضا علیہ السلام اس کے سوالوں کے جوابات دیتے تھے، امام علیہ السلام جو کچھ بھی بیان فرماتے تھے، وه سب قرآنی مطالب و مفاہیم پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔ آپ ؑہر تین دن میں ایک بارپورے قرآن  مجیدکی تلاوت کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے: اگر میں چاہوں تو تین دن سے کم میں قرآن  مجیدکو ختم کردوں لیکن جب بھی کوئی آیت پڑھتا ہوں تو اس میں غور و فکر اور تدبّر کرتا ہوں نیز اس بات پر توجہ کرتا ہوں کہ (یہ آیت) کس چیز کے بارے میں اور کس وقت نازل ہوئی ہے یہی چیز باعث ہوتی ہے کہ میں تین دن میں قرآن ختم کروں ۔(بحارالانوار، مجلسی، ج‏49، ص‏90)  
امام کے طولانی سجدے اور نماز سے انس:آپ بہت زیادہ عبادت میں لگے رہتے تھے اور طولانی سجدے کیا کرتے تھے،آپؑ کی ایک کنیز کا بیان ہے کہ اسے کوفہ کی کچھ کنیزوں کے ساتھ خرید کر مامون کے محل میں لایا گیا اور کچھ وقت کے بعد مامون نے وہ کنیز امام رضا علیہ السلام کو ہبہ کردی، کنیز کا بیان ہے کہ جس وقت میں امام رضا علیہ السلام کے گھر میں گئی تو جن تمام مادّی و دنیوی نعمتوں سے مامون کے گھر میں بہره مند تھی وه سب ہاتھوں سے کھو بیٹھی۔ اس کے بعد ہر رات کو نماز شب کے لئے بیدار ہوتی تھی … راوی کہتا ہے : میں نے اس سے امام  رضاعلیہ السلام کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: "کان اذا صلی الغداة – و کان یصلیها فی اول وقتها - ثم یسجد فلا یرفع راسه الیٰ ان ترفع الشمس؛ امام علیہ السلام جب نماز صبح پڑھتے تھے(اور آپ ؑہمیشہ نماز صبح کو اول وقت میں پڑھا کرتے تھے)  پھر وه سجده میں سر رکھتے تھے اور سورج کے طلوع ہونے تک سجده سے سر نہیں اٹھاتے تھے ۔(بحارالانوار، مجلسی، ج‏49، ص‏90- 89) 
اباصلت ہروی کہتے ہیں :  میں اس گھر میں گیا جس میں امام ؑ کو قید کر رکھا تھا۔میں نے داروغہ زندان سے  ملاقات کی اجازت مانگی تو اس نے کہا: تم ان کے پاس نہیں جاسکتے، میں نے پوچھا کیوں نہیں جاسکتا؟ اس نے جواب دیااس لئے کہ امامؑ رات  اور دن میں ہزار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور دن کے شروع میں صرف ایک گھنٹہ، ظہر سے پہلے ایک گھنٹہ اور ایک گھنٹہ سورج کے ڈوبنے سے پہلے نماز سے فارغ ہوتے ہیں، وه ان اوقات میں بھی مصلّے پر ہوتے ہیں اور اپنے پروردگار سے مناجات  او ر راز و نیاز کرتے ہیں ۔
اباصلت کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا انہی اوقات میں میرے لیے ان سے اجازت لے لو، اس نے میرے کہنے کے مطابق اجازت لی اور میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ غور و فکر اور تدبّر میں مشغول تھے ۔(عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق، ج‏2، ص‏183 – 184؛ بحارالانوار، مجلسی، ج‏49، ص‏91 ) 
امام کی زندگی میں  انکساری:امام رضا علیہ السلام ان تمام فضائل و کمالات کے باوجود لوگوں سے بہت ہی تواضع و انکساری کے ساتھ پیش آتے تھے جبکہ آپ اپنی عمر کے ایک حصہ میں ولی عہدی کے مقام پر فائز تھے اس کے باوجود آپ لوگوں سے بڑی تواضع سے ملتے تھے۔ایک دن امام ؑ حمام کے ایک گوشہ میں تشریف فرما تھے، ایک شخص آیا اور بے احترامی کے ساتھ ان سے کہا: میرے سر پر پانی ڈالو، آپ ؑ بہت ہی انکساری کے ساتھ اس کے سر پر پانی ڈال رہے تھے ۔ اچانک ایک آدمی داخل ہوا جو امامؑ کو پہچانتا تھا، اس نے چیخ کر آواز دی اور کہا:" هلکت و اهلکت، اتستخدم ابن بنت رسول الله صلی الله علیه و آله و امام المسلمین، تم ہلاک ہوگئے اور  ہلاک کردیا (یہ اس بات کا کنایہ تھا کہ تمهارا یہ کام ہماری بھی ہلاکت و نابودی کا باعث ہوگا) کیا تم رسولؐ کے فرزند اور مسلمانوں کے امام و پیشوا سے خدمت لے رہے ہو؟۔
یہ آدمی جس نے ابھی ابھی امام علیہ السلام کو پہچانا تھا، اس نےخود کو حضرت ؑ کے پیروں پر گرادیا اور پیروں کو چومتے ہوئے کہہ رہا تھا: " هلا عصیتنی اذا امرتک" جب میں  نےآپ سے کہا تو آپ نےمیری بات کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: " انها مثوبة و ما اردت ان اعصیک فیما اثاب علیه؛ اس کام کا ثواب ہے اور میں نے نہیں چاہا کہ جس کام پر مجھے ثواب ملے گا میں اس کے متعلق تمہاری مخالفت کروں ۔(الوافی بالوفیات، الصفدی، ج‏22، ص‏251)  ، امام کی یہ عملی سیرت و رفتار انسانی معاشرہ کے لئے بہترین نمونہ عمل ہے ۔
امام کی سخاوت :آپ نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہیں کیا اور جب بھی کسی سائل نے سوال کیا تو آپ نے اس کی حیثیت کے مطابق عطا کیا۔یعقوب بن اسحاق نوبختی کہتے ہیں: ایک دن امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں ایک آدمی نے آکر کہا: "اعطنی علی قدر مروتک؛ اپنی حیثیت کے مطابق مجھے مال و دولت سے نوازیں، امام علیہ السلام نے فرمایا: " لا یسعنی ذلک؛ اس مقدار میں نہیں دے سکتا!
اس آدمی نے کہا:" علی قدر مروتی؛ پھر میری حیثیت کے مطابق مجھے عطا کریں ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں اس مقدار میں دوں گا اس کے بعد اپنے غلام سے فرمایا: اسے دوسو دینار دے دو ۔( مناقب آل ابی طالب، ابن شهرآشوب، ج‏3، ص‏470)
اسی طرح یسع بن حمزہ کا بیان ہے: ایک شخص امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہواور کہا: "اے فرزند رسولؐ! آپ پر سلام ہو! میں آپ اور آپ کے آباء و اجداد کے دوستوں و محبّوں میں سے ہوں اور حج کے سفر سے واپس ہو رہا ہوں، میرے پاس زاد راه بہت کم ہے، میں اپنےوطن تک نہیں پہنچ سکتا ہوں، اگر مناسب ہو تو میری مدد کیجیے تاکہ میں اپنے شہر اور وطن واپس جاسکوں، اللہ نے مجھے نعمتوں اور امکانات سے نوازا ہے اگر میں وطن پلٹ جاؤں تو جو کچھ آپ عطا کریں گے میں انہیں آپ کی جانب سے راه خدا میں صدقہ دوں گا اور مجھے صدقہ کی ضرورت نہیں ہے۔  اس وقت امام علیہ السلام گھر میں داخل ہوئے اور تھوڑی دیر کے بعد آکر اپنے ہاتھ کو پوشیده طریقہ سے دروازه کے باہر نکالا اور اس شخص سے فرمایا:یہ دو سو دینار ہیں انہیں لے لو، ان سے استفاده کرو اور اس چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ میری طرف سے صدقہ دو، خدا حافظ، جاؤ میں تمہیں نہیں دیکھوں گا اور تم بھی مجھے نہیں دیکھو گے ۔اس واقعہ کے بعد جب حضرتؑ گھر سے باہر آئے تو آپ سے سوال کیا گیا کہ اس کی اس طرح مدد(چہرہ چھپاکے) کیوں فرمائی؟۔امام ؑ نے جواب دیا: اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کے چہره پر مانگنے کی شرمندگی کو اس کی حاجت برآوری کے وقت دیکھوں۔ اس کے بعد فرمایا:کیا تم نے رسول خداؐ سے یہ حدیث نہیں سنی ہے: جو شخص نیک کام کو پوشیده طور پر انجام دے وه ستر حج کے برابر ہے اور جو شخص اپنےگناہوں کودوسروں پر ظاہر کرے گا وه  رسواو ذلیل ہوگا اور جو شخص اپنے گناہوں کو دوسروں سے چھپائے گا وه معاف کردیا جائے گا ۔(مناقب آل ابی طالب، ابن شهرآشوب، سابق ، ج‏3، ص‏470)آخر میں امام رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مبارک باد تمام قارئین حضرات کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور پروردگار سے دعا ہے کہ پالنے والے امام کی سیرت پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرما  آمین۔

امام علی رضا (ع) کی علمی و عملی سیرت پر ایک نظر
از قلم: مولانا سید رضی زیدی پھندیڑوی دہلی 

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 4 =

تبصرے

  • میثم IN 22:51 - 2021/06/22
    0 0
    ماشاءاللہ مولانا نے بہت ہی قیمتی معلومات کے ذریعہ امام رضا علیہ السلام کی معرفت میں اضافہ کیا۔ میں شکرگزار ہوں حوزہ ایجنسی کا کہ واسطہ بنے۔