۱۳ اسفند ۱۴۰۲ |۲۲ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 3, 2024
رہبر انقلاب اسلامی

حوزہ/ رہبر معظم انقلاب اسلامی: خلفاء کے درمیان ہونے والی جنگ میں جو ظاہری اور باطنی طور پر فتح سے ہمکنار ہوا، وہ امام علی نقی علیہ السلام تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ایک تقریر سے اقتباس کرتے ہوئے جسمیں آیت اللہ خامنہ ای فرماتے ہیں؛آخرکار حضرت امام علی نقی علیہ السلام اور آپ کے زمانے کے خلفاء کے درمیان ہونے والی جنگ میں جو ظاہری اور باطنی طور پر فتح سے ہمکنار ہوا، وہ امام علی نقی علیہ السلام تھے؛ یہ بات ہماری تمام تقریروں اور بیانوں میں ملحوظ خاطر رہنی چاہیے۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے دور امامت میں یکے بعد دیگرے چھے خلفاء آئے اور واصل جہنم ہوئے۔ ان میں آخری معتز تھا، جیسا کہ امام نے فرمایا، معتز نے امام علیہ السلام کو شہید کیا اور کچھ ہی دنوں کے بعد خود بھی مر گيا۔ ان میں سے زیادہ تر خلفاء بڑی ذلت کی موت مرے ہیں؛ ایک اپنے بیٹے کے ہاتھوں مارا گيا، دوسرے کو اس کے بھتیجے نے قتل کر دیا اور اسی طرح بنی عباس کے خلفاء کے تاروپود بکھر گئے؛ لیکن اس کے برعکس محبان اہل بیت پیغمبر کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ حضرت امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہما السلام کے زمانے میں، انتہائی سخت حالات کے باوجود محبان اہل بیت پیغمبر کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا رہا اور وہ مضبوط ہوتے گئے۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے بیالیس سال کی مبارک عمر پائی جس میں سے بیس سال سامراء میں بسر ہوئے جہاں ان کے کھیت تھے اور اس شہر میں وہ کام کرتے اور زندگی گزارتے تھے۔ سامراء در اصل ایک فوجی چھاؤنی کی مانند تھا جس کی تعمیر معتصم نے کروائی تھی تاکہ اپنے قریبی ترک غلاموں کو، آذربائیجان اور دیگر علاقوں میں رہنے والے ہمارے ترک نہیں، بلکہ جو ترکستان، سمرقند اور منگولیا نیز مشرقی ایشیا سے لائے گئے تھے، سامراء میں رکھے۔ یہ لوگ چونکہ نومسلم تھے اس لیے ائمہ علیھم السلام اور مومنین کو نہیں پہچانتے تھے بلکہ اسلام کو بھی بخوبی نہیں سمجھتے تھے۔ یہ وجہ تھی کہ وہ لوگوں کے لیے پریشانیاں کھڑی کرتے تھے اور عربوں یعنی بغداد کے لوگوں سے ان کے بہت اختلافات ہوگئے تھے۔ اسی سامراء شہر میں حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے زمانے میں اچھی خاصی تعداد میں شیعہ علماء جمع ہو گئے اور امام علیہ السلام نے ان کے ذریعے امامت کا پیغام پورے عالم اسلام میں خطوط وغیرہ کی شکل میں پہنچانے میں کامیابی حاصل کی۔ قم، خراسان، رے، مدینہ، یمن اور دیگر دور دراز کے علاقوں اور پوری دنیا میں انہی افراد نے شیعہ مکتب فکر کو پھیلایا اور اس مکتب پر ایمان رکھنے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے یہ تمام کام ان چھے خلفاء کی خونچکاں شمشیروں کے سائے تلے اور ان کی مرضی کے برخلاف انجام دیے ہیں۔ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں ایک معروف حدیث ہے جس کی عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ سامراء میں اچھی خاصی تعداد میں شیعہ اس طرح سے اکٹھا ہو گئے تھے کہ دربار خلافت انہیں پہچان نہیں پاتا تھا، کیونکہ اگر وہ انہیں پہچان جاتا تو ان سب کو تہ تیغ کر دیتا لیکن چونکہ ان افراد نے اپنا ایک مضبوط چینل بنا لیا تھا اس لیے خلافت بھی ان لوگوں کی شناخت نہیں کر سکتی تھی۔ ان عظیم شخصیات یعنی ائمہ علیھم السلام کی ایک دن کی سعی و کوشش، برسوں کا اثر رکھتی تھی؛ ان کی مبارک زندگی کا ایک دن، برسوں تک کام کرنے والے ایک گروہ کی کارکردگی سے زیادہ معاشرے پر اثر ڈالتا تھا۔ ائمہ نے اس طرح سے دین کی حفاظت کی ہے ورنہ جس دین کے علمبردار متوکل، معتز، معتصم اور مامون جیسے افراد ہوں اور جس کے علماء یحیٰی بن اکثم جسے افراد ہوں کہ جو دربار خلافت کے عالم ہونے کے باوجود انتہائی درجے کے فاسق و فاجر تھے، ایسے دین کو تو بالکل بچنا ہی نہیں چاہیے تھا اور انہی ابتدائی ایام میں اس کی بیخ کنی ہو جانی چاہیے تھی، اس کا خاتمہ بخیر ہو جانا چاہیے تھا۔ ائمہ علیھم السلام کی اس جدوجہد اور سعی و کوشش نے نہ صرف تشیع بلکہ قرآن مجید، اسلام اور دینی تعلیمات کا تحفظ کیا؛ یہ ہے خدا کے خالص و مخلص بندوں اور اولیائے خدا کی خصوصیت۔ اگر اسلام میں ایسے کمربستہ افراد نہ ہوتے تو بارہ سو، تیرہ سو برسوں کے بعد اسے حیات نو نہ ملتی اور وہ اسلامی بیداری پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوتا؛ بلکہ اسے دھیرے دھیرے ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ اگر اسلام کے پاس ایسے افراد نہ ہوتے جنہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد ان عظیم اسلامی تعلیمات کو انسانی اور اسلامی تاریخ میں موجزن کر دیا تو اسلام ختم ہو جاتا اور اس کی کوئی بھی چیز باقی نہ رہتی؛ اور اگر کچھ بچ بھی جاتا تو اس کی تعلیمات میں سے کچھ بھی نہیں بچنا چاہیے تھا؛ یہودیت اور عیسائیت کی طرح کہ اب ان کی اصل تعلیمات میں سے تقریبا کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے۔ یہ کہ قرآن مجید صحیح و سالم باقی رہ جائے، حدیث نبوی باقی رہ جائے، اتنے سارے احکام اور تعلیمات باقی رہ جائیں اور اسلامی تعلیمات ایک ہزار سال بعد، انسان کی وضع کردہ تعلیمات سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو ظاہر کریں، تو یہ معمولی بات نہیں ہے بلکہ غیر معمولی بات ہے جو مجاہدت کے ساتھ انجام پائی۔ البتہ اس عظیم کام کی راہ میں زد و کوب کیے جانے، اسیر ہونے اور قتل کیے جانے جیسی باتیں بھی ہیں تاہم ائمہ علیھم السلام انہیں کبھی خاطر میں نہیں لائے۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے بچپن کے بارے میں ایک حدیث ہے، پتہ نہیں آپ حضرات نے سنی ہے یا نہیں؛ جب معتصم باللہ نے سنہ 218 ہجری قمری میں حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو ان کی شہادت سے دو سال قبل مدینے سے بغداد بلوایا تو اس وقت حضرت امام علی نقی علیہ السلام، جن کی عمر چھے سال تھی، اپنے اہل خانہ کے ساتھ مدینے میں رک گئے۔ جب امام محمد تقی علیہ السلام کو بغداد لایا گیا تو معتصم نے ان کے اہل خانہ کے بارے میں تفتیش کی اور جب اسے یہ پتہ چلا آپ کے بڑے فرزند علی بن محمد کی عمر چھے سال ہے تو اس نے کہا کہ یہ خطرناک ہے؛ ہمیں اس کی کوئی چارہ جو‏ئی کرنی چاہیے۔ معتصم نے اپنے ایک قریبی شخص کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ بغداد سے مدینے جائے اور وہاں اہل بیت کے کسی دشمن کو تلاش کرکے اس بچے کو اس کے حوالے کرے تاکہ وہ شخص استاد کے طور پر اس بچے کو تعلیم دے اور اسے خاندان رسالت کا دشمن اور دربار خلافت کا دوست بنائے۔ وہ شخص بغداد سے مدینے آيا اور الجنیدی نامی ایک عالم کو، جو اہل بیت علیھم السلام کے سب سے بڑے مخالفین اور دشمنوں میں سے تھا اور اس قسم کے علماء اس وقت مدینے میں موجود تھے، اپنے اس کام کے لیے مامور کیا اور اس سے کہا کہ مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ تمہیں اس بچے کا استاد مقرر کروں تاکہ تم کسی کو اس سے ملنے جلنے نہ دو اور اس کی ویسی پرورش کرو جیسی ہم چاہتے ہیں۔ اس شخص کا نام یعنی الجنیدی تاریخ میں درج ہے۔ اس وقت حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی عمر، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، چھے سال تھی اور معاملہ حکومت کا تھا، کون اس کے سامنے کھڑا ہو سکتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد دربار خلافت سے وابستہ ایک شخص نے الجنیدی سے ملاقات کی اور اس سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جسے اس کے حوالے کیا گيا تھا۔ الجنیدی نے کہا: بچہ؟! یہ بچہ ہے؟! میں ادبیات کی کوئي بات اسے بتانا چاہتا ہوں تو وہ ادب کے ایسے ایسے گوشے میرے سامنے کھول دیتا ہے کہ جن کا مجھے بھی علم نہیں ہوتا! ان لوگوں نے کہاں تعلیم حاصل کی ہے؟! کبھی کبھی جب وہ حجرے میں داخل ہونا چاہتا ہے تو میں اس سے کہتا ہوں کہ پہلے قرآن مجید کے ایک سورے کی تلاوت کرو اور پھر حجرے میں داخل ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ الجنیدی حضرت کو پریشان کرنا چاہتا تھا، تو وہ پوچھتا ہے کہ کون سا سورہ پڑھوں؟ میں اس سے کہتا ہوں کہ کوئي بڑا سورہ؛ جیسے سورۂ آل عمران پڑھو۔ اس بچے نے پورا سورہ پڑھا اور اس کے مشکل الفاظ کے معنی بھی مجھے بتائے۔ یہ لوگ عالم ہیں، حافظ قرآن ہیں، قرآن مجید کی تاویل اور تفسیر کے عالم ہیں اور تم کہہ رہے ہو بچہ؟!

اس بچے کا، کہ جو بظاہر بچہ ہے لیکن ولی اللہ ہے؛ ((وآتیناہ الحکم صبیا)) اور استاد سے رابطہ کچھ عرصے تک جاری رہا اور استاد، اہلبیت علیھم السلام کا سچا شیعہ بن گیا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .