۲ خرداد ۱۴۰۳ |۱۴ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 22, 2024
طلاب حوزه علمیه نجف اشرف

حوزہ/حوزہ علمیہ نجف اشرف کے علماء نے عراقی شہر اربیل میں صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عراقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس طرح کی کارروائیاں نہ روکیں تو حوزہ علمیہ نجف اس کا مقابلہ کرے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حوزہ علمیہ نجف اشرف کے طلباء اور علماء نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے عراق، کردستان کے اربیل شہر میں صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مذمتی بیان کا متن مندرجہ ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحیم

(لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِینَ آمَنُوا الْیَهُودَ وَالَّذِینَ أَشْرَکُوا)
صدق الله العلی العظیم

حوزہ علمیہ نجف اشرف کے طلباء،اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور امام علی(ع)اور امام حسین (ع)کے ملک میں ذلت آمیز معاہدے میں شمولیت کے لئے منعقدہ کانفرنس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

غاصب صہیونی دشمن کے ساتھ روابط اور تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے اس طرح کی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور انجام دینا انسانیت کےخلاف جرم،اسلامی تعلیمات کی مخالفت اور اسے عراقی قوانین کے تحت خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

ہم حوزہ ہائے اسلامی،مراجع عظام اور مسلمانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئےاس غیر قانونی اور ذلت آمیز معاہدوں کے خلاف اتحاد و وحدت کا ثبوت پیش کریں۔

یہ اقدام،حوزہ علمیہ نجف اشرف اور اسرائیلی غاصب اور غیر قانونی حکومت کے خلاف ہماری جہادی قوم کے شجاعت مندانہ مؤقف کے منافی ہے۔

حوزہ علمیہ کی جہادی تاریخ میں مسئلہ فلسطین ہمیشہ اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے۔

ہم تمام متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس توہین آمیز اجتماع کے خلاف مؤقف اختیار کریں۔اگر حکومت انسانی اقدار کے منافی اس طرح کے اجتماعات کو نہیں روک سکتی ہے تو حوزہ علمیہ نجف اشرف پوری طاقت سے اس کا مقابلہ کرے گا۔

(ویمکرون ویمکر الله والله خیر  الماکرین).

طلاب حوزہ علمیہ نجف اشرف

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .