۱۷ آذر ۱۴۰۲ |۲۵ جمادی‌الاول ۱۴۴۵ | Dec 8, 2023
حجت الاسلام و المسلمین ناصر رفیعی

حوزہ / تاریخ، سیرت اور تمدن اسلامی کے اعلی تعلیمی کمپلیکس کے سربراہ نے کہا: افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ دوسروں کے عقائد کی توہین اور ان کا تمسخر کیا جاتا ہے۔ اس جانب توجہ رہے کہ فحش کی قباحت حق بات کو سننے سے مانع ہو جاتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے تاریخ، سیرت اور تمدن اسلامی کے اعلی تعلیمی کمپلیکس میں "انٹرنیشنل تبلیغ دین کانفرنس" کے موضوع پر منعقدہ ایک نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: تبلیغ کے سلسلے میں ضروری اور غیر ضروری چیزوں کی طرف توجہ دینا چاہئے۔

انہوں نے کہا: تبلیغ دین میں ضروری چیزوں میں سے ایک مخاطب کی عزت و کرامت کا خیال کرنا ہے اور بیان ہونے والے مطالب میں مخاطب کے عقائد کا احترام بھی ضروری ہے۔

جامعۃ المصطفی کی علمی کمیٹی کے رکن نے کہا: بعض اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ خطابات میں دوسروں کے عقائد کی توہین اور تمسخر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے حق بات کو سنا ہی نہیں جاتا۔ کسی عقیدے پر تنقید صرف ادب و احترام کے دائرے میں رہ کر ہی کی جا سکتی ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین رفیعی نے کہا: ایسے مطالب کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے جو قدیمی اختلافات اور دشمنیوں کو زندہ کرنے کا باعث بنیں۔ ایسا معاشرہ کہ جس میں مختلف مذاہب کے پیروکار زندگی بسر کرتے ہوں اس میں اختلاف ایجاد کرنے والے مطالب کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

دینی علوم کے استاد نے کہا: کسی معاشرے کی اچھی عادات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بعنوان مثال ہر معاشرے میں ایک دن سال کے آغاز کی مناسبت سے جشن منایا جاتا ہے۔ وہاں کے قوم و قبیلے اور دوست احباب ان دنوں میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔ یہ اچھی رسومات میں سے ایک ہے، اس کی مخالفت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: مختلف ممالک اور مختلف علاقوں میں اچھی رسومات پائی جاتی ہیں ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے جیسے عرب جاہلیت میں چار قمری مہینوں میں جنگ حرام تھی۔ اسلام نے بھی اس پسندیدہ رسم کا احترام کیا اور اس کی تائید کی۔

حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے اس استاد نے کہا: موجودہ دور میں تبلیغ دین کے لئے سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا سے استفادہ ضروری ہے لہذا ثقافتی سرگرمیوں میں سرگرم افراد کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
0 + 0 =