۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
مولانا شیخ ابراہیم خلیلی

حوزہ/ مرکزی امام جمعہ کرگل نے اتر پردیش اور ملک کے دیگر ریاستوں کے مسلمان جو ظلم و زیادتی کے شکار ہیں کرگل سے مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی و ہمدردی کا اظہار کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کرگل لداخ کے مرکزی امام جمعہ و خطیب حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ابراہیم خلیلی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش کی حکومت کی طرف سے حالیہ دنوں توہین رسالت کے سلسلے میں نکالی کی گئی احتجاجی جلوسوں پر تشدد کے دوران دو جوان مسلم لڑکوں کو گولی مار کر شہید کئے جانے اور ان احتجاج کے بعد آفرین فاطمہ اور دیگر مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو مسلمانوں پر ظلم و بربریت فوراً بند کرکے اتر پردیش کے مسلمانوں کی تحفظات کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

اتر پردیش میں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کئے جانے پر شدید مذمت کرتے ہیں، مولانا شیخ ابراہیم خلیلی

مرکزی امام جمعہ کرگل نے مزید اتر پردیش اور ملک کے دیگر ریاستوں کے مسلمان جو ظلم و زیادتی کے شکار ہیں کرگل سے مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی و ہمدردی کا اظہار کیا۔

اتر پردیش میں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کئے جانے پر شدید مذمت کرتے ہیں، مولانا شیخ ابراہیم خلیلی

اس سے قبل گزشتہ جمعہ کی اجتماع سے اپنے خطاب میں جمعیت العلماء اثنا عشریہ کرگل کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ناظر مہدی محمدی اور مرکزی امام جمعہ کرگل حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ابراہیم خلیلی نے بی جے پی ترجمان نُپر شرما اور نوین جندل کے رسول گرامی اسلام حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ و الہ و سلم کے خلاف دئے گئے گستاخانہ بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے بی جے پی اور مرکزی حکومت سے ان دونوں کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی تھی لیکن ملک کے مسلمانوں کی احساسات کو مجروح کرتے ہوئے ان گستاخ رسول پر کوئی کروائی نہیں کی گئی اور جب خلیجی ممالک اور ایران کی طرف سے بائیکاٹ کی دھمکی اور دباؤ بڑھنے لگا تو ان دونوں کو بی چے پی نے پارٹی سے باہر کا راستہ دکھایا لیکن حیرانی کی بات ہے کہ حکومت ہندوستان نے ابھی تک ان گستاخ رسول اور ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچانے والوں پر ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 2 =