۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
سازمان فرهنگ و ارتباطات اسلامی

حوزہ؍ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور بدھ مت کے ماننے والوں نے ایک دوسرے سے باتیں کیں اور سنیں۔ شرکاء نے مذاہب کے مکالمے میں اخلاقیات کو ایک مشترکہ محور بیان کیا اور اس طرح کے اجلاس کو جاری رکھنے پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،نئی دہلی سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن نیوز ایجنسی کے حوالے سے آرگنائزیشن آف اسلامک کلچر اینڈ کمیونیکیشن(سازمان فرهنگ و ارتباطات اسلامی) کے تعلقات عامہ کے مطابق؛ ایک ہال میں جہاں چاروں طرف ایرانی ثقافت اور تہذیب کے آثار نظر آتے ہیں، ایک ایسا دورہ منعقد کیا گیا جس میں ہندوستان کے مختلف مذاہب کے نمائندے اور علماء اکٹھے بیٹھ کر گفتگو کرتے نظر آئے۔

ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور بدھ مت کے ماننے والوں نے ایک دوسرے سے باتیں کیں اور سنیں۔ شرکاء نے مذاہب کے مکالمے میں اخلاقیات کو ایک مشترکہ محور بیان کیا اور اس طرح کے اجلاس کو جاری رکھنے پر زور دیا۔

ہندو پنڈت نے ایک دوسرے کے مقدسات کے احترام پر زور دیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے حجت الاسلام علی زادہ نے تجویز پیش کی کہ بین المذاہب مشترکات کو ایک نظریہ کے طور پر رکھا جائے جس کی سب کی طرف سے حمایت حاصل ہو۔

ہندوستان کے ایک سکھ مذہبی رہنما نے لوگوں کے درمیان تفرقہ بازی کو برائی قرار دیتے ہوئے کہا: "جو لوگ اختلاف کو ہوا دیتے ہیں وہ انسان نہیں ہوتے اور ان کے مزاج شیطانی ہوتے ہیں۔"

تھامس کرسچن نے دوستی اور محبت کے پھیلاؤ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں جنھیں دوستی اور محبت سے دور کیا جاسکتا ہے۔

دہلی مسلم حج کمیٹی کے رکن شاداب نے بھی مشورہ دیا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو دوستی بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا چاہیے۔

میٹنگ میں اپنی بات رکھنے والے آخری شخص ایک اور ہندو پنڈت تھے، جنہوں نے اختلافات کو دور کرنے کے لیے باہمی افہام و تفہیم اور مختلف مذاہب کی ایک باڈی تشکیل دینے کا مشورہ دیا۔

اس ملاقات میں ہندوستانی مذاہب کے رہنماؤں نے اس اجلاس کے انعقاد پر اسلامی جمہوریہ ایران کی تعریف کرتے ہوئے ہندوستان میں مذاہب کے پیروکاروں کے امن اور پرامن بقائے باہمی کو بڑھانے میں ایران کے کردار پر زور دیا۔

ہندوستانی مذہبی رہنماؤں نے ہندوستان میں مذہبی پیروکاروں کے پرامن بقائے باہمی کے بڑھاوے میں ایران کے کردار کی تعریف کیہندوستانی مذہبی رہنماؤں نے ہندوستان میں مذہبی پیروکاروں کے پرامن بقائے باہمی کے بڑھاوے میں ایران کے کردار کی تعریف کیہندوستانی مذہبی رہنماؤں نے ہندوستان میں مذہبی پیروکاروں کے پرامن بقائے باہمی کے بڑھاوے میں ایران کے کردار کی تعریف کیہندوستانی مذہبی رہنماؤں نے ہندوستان میں مذہبی پیروکاروں کے پرامن بقائے باہمی کے بڑھاوے میں ایران کے کردار کی تعریف کیہندوستانی مذہبی رہنماؤں نے ہندوستان میں مذہبی پیروکاروں کے پرامن بقائے باہمی کے بڑھاوے میں ایران کے کردار کی تعریف کیہندوستانی مذہبی رہنماؤں نے ہندوستان میں مذہبی پیروکاروں کے پرامن بقائے باہمی کے بڑھاوے میں ایران کے کردار کی تعریف کی

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 1 =