۹ مهر ۱۴۰۱ |۵ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 1, 2022
شیخ نعیم قاسم معاون دبیرکل حزب الله لبنان

حوزہ/ حزب اللہ لبنان کےڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت اس وقت تک کریش گیس فیلڈ میں انویسٹمنٹ نہیں کرسکتی جب تک لبنان اپنے سمندری وسائل حاصل نہیں کرلیتا اور لبنانی حق کےلئے بھیک مانگنے کا دور ختم ہوگیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بیروت میں علماء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج لبنان غیر مستقیم طور پر صیہونی ریاست کے ساتھ مقاومت کی طاقت کے بل بوتے پر مذاکرات کر رہا ہے۔

انہوں نےلبنان میں جاری بحران سے نمٹنے کےلئے جلد سے جلد کابینہ کی تشکیل پرزوردیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وزارتی لائن اپ سے استفادہ کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے ملکی اتحاد کی اہمیت کے بارے میں کہا کہ ان سے نئے صدرکے انتخاب اور روشن مستبقل میں مدد ملے گی۔

انہوں نے امریکی نمائندے ہوشٹین کے دورہ بیروت کے بارے میں کہا کہ وہ اب بیروت نہیں آئیں گے، لبنانی حکام اسی کی بارڈر تجاویز کے جواب کی تیاری کررہے ہیں۔

المنار ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صیہونی نمائندے ہوشٹین نے لبنان کو پیغام دیا تھا کہ صیہونی حکومت پوری قانا آئل فیڈ اور اس سے آئل نکالنے کے سارے حقوق لبنان کو دینے پر تیار ہے۔

گذشتہ ہفتہ امریکی نمائندے ہوشٹین نے لبنانی حکام کو ایک نقشہ بھیجا تھا جس میں اقوام متحدہ نے سمندری حدود کا تعین کیا تھا جس پر لبنان کو خدشات تھے۔

یاد رہے کہ کریش آئل فیڈ پرلبنان اور صیہونی حکومت کے درمیان اختلافات جاری ہیں، صیہونی حکومت لبنانی حقوق تسلیم کرنے پر راضی نہیں تھی جس کے جواب میں استقامتی تنظیم حزب اللہ نے فوجی کارروائی کی دھمکی تھی اور اپنے تین ڈرون طیارے اس سمندری تیل تنصیاب کے اوپر غاصب صیہونیوں کو الٹی میٹم دینے کےلئے بھیجے تھے۔ جس کے بعد صیہونی ریاست نے امریکہ کو واسطہ بنا کر لبنان کو اس کے سمندری حقوق دینے اور کسی باہمی معاہدہ تک پہنچے کی بات کی تھی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 8 =