۶ آذر ۱۴۰۱ |۳ جمادی‌الاول ۱۴۴۴ | Nov 27, 2022
سید ناصر عباس شیرازی

حوزہ / مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری نے کہا: کابل کے نواح میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونےوالے بچے عالمی برادری ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور مذہبی حلقوں سے سوال کرتے ہیں کہ "ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا؟"۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری سید ناصرعباس شیرازی نے کابل کے ایک گرلز کالج میں دہشت گرد حملے پر دلی افسوس اور رنج کا اظہار کیا ہے ۔

انہوں نے کہا: کابل کے نواح میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے بچے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مذہبی حلقوں سے سوال کرتے ہیں کہ "ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا"؟۔

سید ناصر عباس شیرازی نے انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: اگر دوربین لگا کر ایران میں چند چھوٹے سے مظاہرین کی عالمی کوریج سے فرصت ملے تو سوچا جائے کہ یہ بھی انسان تھے۔ جن میں بچے بھی تھے اور طالب علم بھی۔

انہوں نے مزید کہا: دشمن کو جان لینا چاہیے کہ اگر بات اس درجہ پر آ گئی ہے کہ مولا علی علیہ السلام کے ماننے والوں سے مقابلہ اب بچوں کی شہادت کے ذریعے سے کیا جانا ہے تو وہ اپنی شکست تسلیم کر لیں کیونکہ یہ مقابلہ وہ ہار چکے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 6 =