۸ اسفند ۱۴۰۲ |۱۷ شعبان ۱۴۴۵ | Feb 27, 2024
رہبر معظم

حوزہ/ رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے منگل کی صبح اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بحریہ کے کچھ کمانڈروں اور اعلی عہدیداروں سے ملاقات میں اس فورس کی بے پناہ صلاحیتوں، خاص طور پر سمندری معیشت کی پالیسیوں کے نفاذ میں تعاون کی اس کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا۔

یوم بحریہ کی مناسبت سے ہونے والی اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے 7 آذر مطابق 28 نومبر کو ایک تاریخی اور ناقابل فراموش دن بتایا اور کہا کہ اس دن کو بحریہ کے ایثار و فداکاری کے دن کی حیثیت سے پہچنوایا جانا چاہیے۔

انھوں نے اسلامی انقلاب کی ابتدا سے اب تک بحریہ کی پیشرفت کو زبردست اور ناقابل یقین بتایا اور کہا کہ انقلاب کے ابتدائي برسوں میں وطن عزیز کے علاقائی سمندر (ٹیریٹوریل واٹر) سے باہر بحریہ کی موجودگي ناقابل تصور تھی لیکن اب بحریہ پوری طاقت اور اقتدار کے ساتھ پوری دنیا کا چکر لگاتی ہے اور سربلندی کے ساتھ وطن لوٹتی ہے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ ایک وقت وہ تھا جب یہ سوچا بھی نہیں جاتا تھا کہ ہماری بحریہ بحیرۂ خزر میں اپنی موجودگي درج کرا سکتی ہے لیکن آج بحیرۂ خزر کے ساحلوں پر ڈسٹرائر بنائے جا رہے ہیں اور وہیں سے انھیں پانی میں اتار دیا جاتا ہے۔

انھوں نے بحریہ کی گنجائشوں اور توانائيوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی جنگي صلاحیتوں اور تیاریوں کو پہلے سے زیادہ بہتر بنائے جانے پر زور دیا اور کہا کہ بحریہ کی ایک صلاحیت جو جوانوں کے اندر امید و نشاط پیدا کر سکتی ہے، اس فورس کے کارخانوں اور توانائيوں کے معائنے کے مقصد سے ملک کی پیشرفت کے لیے کام کرنے والوں کے ٹورز بلانا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ کوشش کی جانی چاہیے کہ بحریہ بھرپور طریقے سے ایک اسٹریٹیجک فورس بن جائے۔

اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل شہرام ایرانی نے اس فورس کی صلاحیتوں اور سرگرمیوں کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی اور سمندری امور کے فروغ کا نوٹیفکیشن جاری کیے جانے پر رہبر انقلاب اسلامی کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ بحریہ ان پالیسیوں کے نفاذ میں مدد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ بحریہ کے کمانڈر نے آبی حدود میں اثر و رسوخ کا دائرہ بڑھانے اور سائنس و ٹیکنالوجی کا سہارا لیے جانے کو، نظام کی طاقت کے عناصر کو مضبوط بنانے میں اس فورس کی دو کلیدی پالیسیوں میں شمار کیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .