حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ڈاکٹر سیده فاطمه سیدمدللکار نے حوزہ نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا: اس میں کوئی شک نہیں کہ شعائر حسینیہ نے پوری تاریخ میں مذہب تشیع کو زندگی اور حیات بخشنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لہذا ہم اربعین کو تشیع کی تشہیر و ترویج میں ایک اہم رکن کہہ سکتے ہیں، کیونکہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے حرم ہمیشہ سے ہی مرکز علم ، مرکز تبلیغ و ترویج دین، انقلاب اور مختلف تحریکوں کی ابتداء کے مرکز رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: دور حاضر میں اربعین نے تمام شیعوں کو مزید متحد کر دیا ہے اور اس سے تشیع کا جلا و جمال نکھر کر سامنے آیاہے، اس لیے اربعین کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے مظاہر کے بارے میں گہرائی سے تحقیق اور غور و فکر نا ضروری ہے۔
حوزہ علمیہ کواہران کے استاد نے کہا: اربعین کے موقع پر دنیا بھر کے شیعوں اور اہل بیت (ع) کے چاہنے والوں کا جمع ہونا اسے دنیا کے نایاب ترین مذہبی اجتماعات میں سے ایک بناتا ہے اور شیعوں کی طاقت اقتدار کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر سیده فاطمه سیدمدللکار نے کہا: اربعین واک دشمنان اسلام اور تکفیری گروہوں کے خلاف شیعوں اور دیگر مسلمانوں کی طاقت کو اقتدار کو ظاہر کرتا ہے، اس وقت اربعین حسینی کا سیاسی فائدہ یہ ہے کہ اس اجتماع سے ہمسایہ ممالک اور دنیا بھر میں پھیلنے والے سلفی اور تکفیری عناصر کو شیعوں کی طاقت کا اندازہ ہو جائے گا اور جہاں اسلام کی قدرت کو دنیا دیکھ سکے گی۔