حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ عباس کعبی نے امام حسین (ع) علمی و ثقافتی مرکز اہواز میں طلبہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) کی شخصیت اور امامت کے مقام پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ حضرت علی (ع) قرآن کی مجسم حقیقت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نورانی شخصیت کا مظہر ہیں۔ آپ کو رسول اللہ (ص) کے بعد ایسی منفرد خصوصیات حاصل تھیں جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوئیں۔
انہوں نے امیرالمؤمنین (ع) کی نمایاں خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت کی سب سے نمایاں شخصیات مندرجہ ذیل ہیں:
1. علم و حکمت:
رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
"أنا مدینة العلم وعلیّ بابها" (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں)۔
اسی طرح فرمایا: "أنا مدینة الحکمة و علیّ بابها" (میں حکمت کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں)۔
2. شجاعت اور قیادت:
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
"وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغاءَ مَرْضاتِ اللَّهِ"
(اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان بیچ دیتے ہیں)۔
3. جہاد، فداکاری اور عشقِ شہادت:
حضرت علی (ع) نے اپنی پوری زندگی راہِ خدا میں جہاد اور فداکاری کے لیے وقف کر دی۔
4. الہی حکمرانی اور امانت داری:
اللہ فرماتا ہے:
"إِنَّ اللَّهَ یَأمُرُکُم أَن تُؤَدُّوا الأَماناتِ إِلی أَهلِها"
(اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچاؤ)۔
5. زہد، تقویٰ اور پارسائی:
امیر المؤمنین (ع) کا زہد اور تقویٰ بے مثال تھا، جس کی وجہ سے ان کی محبت مسلمانوں اور غیر مسلموں کے دلوں میں جاگزیں ہے۔
آیت اللہ کعبی نے مزید کہا کہ طوفان الاقصی کے بعد صیہونی حکومت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی حالت ایک زخمی بھیڑیے کی طرح ہے، جو نہ صرف شدید غصے میں ہے بلکہ اندرونی خوف اور بے بسی کا بھی شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی امت کو اپنی معیشت مضبوط کرنی ہوگی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوگا۔ مزید برآں، مزاحمتی قوتوں کو مزید طاقتور بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دشمنوں کے منصوبے ناکام بنائے جا سکیں۔
آیت اللہ کعبی نے تاکید کی کہ امریکہ اور اسرائیل کمزور ہو چکے ہیں، مگر وہ اپنی طاقت کا دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم بصیرت، استقامت اور اتحاد کو برقرار رکھیں، تو ان شاء اللہ، اسلامی امت فتح یاب ہوگی اور دشمنوں کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آپ کا تبصرہ