حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یورپ میں آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین سید مرتضی کشمیری نے عالم اسلام کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک پیغام ارسال کیا ہے جسکا مکمل متن اس طرح ہے؛
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عید، محض روحانیت کی تجدیدیا انسانی روابط باہمی کا موقع ہی نہیںہے بلکہ محبت اور ہمدردی کا یہ پیغام، جوہرپیغامِ محمدی ؐکا مجسمہ ہے۔
روزِ سعیدعید الفطر ،عظیم ترین اسلامی مناسبات کااہم ترین جزو اور مسلمانوں میں سب سے زیادہ فرحت و انبساط کا دن شمار کیا جاتاہے۔ یہ پورے ایک مہینے کے روزوں، عبادتوں اور اطاعتوں کی تکمیل کے بعدروزہ داروں کیلئےبعنوانِ سند تکمیل فرائض اوربطورِجزائے اطاعتِ ربانیہ آتا ہے۔
امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ : (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا): ’’جب شوال کا پہلا دن آتا ہے تو ایک منادی ندا دیتاہے: اے ایمان والو! اپنے انعامات کی طرف بڑھو،پھر فرمایا: اے جابر، انعامِ الٰہی ان دنیاوی بادشاہوں کے انعامات کی طرح نہیں ہے، پھر فرمایا: یہ اجر کا دن ہے‘‘۔
امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: ’’روزہ دار کے لیےخوشی کے دو مواقع ہیں: ایک خوشی وقتِ افطار کی اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کی ہے‘‘۔
اورعید صرف یہیں تک محدود نہیں ہے، بلکہ عید کے دن مومنین کو کچھ اور اموربھی انجام دیناچاہئیں:
اول: ایک دوسرے سےملاقات:
مومنین کا ایک دوسرے سے ملنا ایک عبادت اور ذریعۂ قربتِ الہی ہے، اس عمل کی عمیق اور کثیر الجہات روحانیت عام سماجی اجتماعات سے کہیں بالاتر ہے۔ ایسے ہی ملاقاتی دوروںسے سماجی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور یہی ملاقاتیںمحبت اور ہم آہنگی کے جذبات کی ترسیل،مبارکبادوں اور خوشیوں کے تبادلےکے ساتھ فاصلوں اور تنہائیوں کو ختم کرنے کا باعث بھی بنتی ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے: ’’جو شخص خدا کی خاطر اپنے بھائی کی عیادت کرتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے: تو نے میری زیارت کی اب تیرا اجر مجھ پر ہے اور میں تیرے حق میں جنت سے کم کسی اجر پر راضی نہیں ‘‘۔
دوم: رشتہ داروں سے ملاقات:
اسلام میں اس ملاقات کی بڑی حیثیت ہے اور آیات و روایات میں تاکیداً بیان ہوئی ہے۔
امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’خاندانی تعلقات کو برقرار رکھنے سے کردار میں بہتری آتی ہے، ہاتھ کو سخاوت اور روح کو تسکین ملتی ہے، روزی میں اضافہ ہوتا ہے اور عمر دراز ہوتی ہے‘‘۔
صلۂ رحم سے خاندانی رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور مشترکہ یادیں زندہ ہوتی ہیں۔صلۂ رحم رشتہ داروں کے حالات کو جاننے، ان کی اخلاقی اور مادی کمک رسانی،اور خاندانی اور معاشرتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں ازحد معاون ہے۔
چنانچہ امام صادق علیہ السلام کی تاکید ہے: ’’ رشتہ داریوں کو قائم رکھو اگرچہ انہیں صرف پانی ہی پلاؤ، اور رشتہ داریوں کو برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ ان کو نقصان پہنچانے سے باز رہنا ہے، آپ نے فرمایا: رشتہ داریوں کو برقرار رکھنے سے عمر اورمال میں اضافہ ہوتا ہے اور خاندان میں محبت پیدا ہوتی ہے‘‘۔
سوم: بیماروں کی عیادت:
اسلام کی نظر میں مریض کی عیادت ، مذہبی ذمہ داری کے ساتھ ایک انسانی فریضہ بھی ہے۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ’’جو شخص کسی بیمار مسلمان کی عیادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیتا ہے جوتا ابد اس کے گھر میں موجود رہ کرخداوندعالم کی تسبیح و تہلیل و تکبیرکریں گے۔ ان کی نمازوں کا نصف حصہ قیامت تک اس عیادت کرنے والے سےمخصوص رہے گا‘‘۔
اس روش کےبے شمار مثبت پہلو ہیں، جن میںلوگوں کو خوشی پہنچانا، ان کی تکلیفات کو دور کرنا، ان کی دیکھ بھال اور محبت کا احساس دلانا، نفسیاتی اور روحانی مدد فراہم کرنا، اور ان کی ضروریات کو پوراکرنا شامل ہیں۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:’’ ایک مسلمان کا حق ہے کہ دوسرا مسلمان اگر شکایت کرے تو وہ اس کی عیادت کیلئے جائے۔پکارے تو جواب دے،اس کے مرنے پہ شہادت دے، اور اسےچھینک آئے تو بسم اللہ کہےـ‘‘۔
ملاقاتی کی طرف سے بیمار شخص کیلئے تحفہ لانا مستحبات میں سے ہے، کیونکہ اس سےمومن کے دل کو خوشی ہوتی ہے۔
چہارم: قبروں کی زیارت:
خصوصاً والدین اور رشتہ داروں کی قبروں کی زیارت۔ نبی اکرم ﷺسے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص ہر جمعہ کو اپنے والدین یا کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے گا، اس کی بخشش ہوجائے گی اور اسےپرہیزگار لکھاجائے گا‘‘۔
اسی لیےماہ مبارک رمضان میں بعض نمازوں کی تعقیبات میں مذکورہے: اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَى أَهْلِ الْقُبُورِ السُّرُورَ۔۔۔(اے اللہ! قبر والوں کومسرور فرما!۔۔۔) لہذا جس طرح ہم زندہ لوگوں کے دلوں کو خوشی پہنچاتے ہیں، اسی طرح مردوں کیلئے بھی سامانِ مسرت فراہم کرتے ہیں، اسلئے کہ زندہ افراد مردوں سے بہترسماعت نہیں رکھتے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: ’’اپنےگزشتگان کی قبروں پہ جایا کروکہ انہیں تمہاری زیارت سے خوشی حاصل ہوتی ہے۔، اورتم میں سے ہرشخص اپنے والدین کی قبروں پہ جاکر ان کے حق میں دعا کر کے اپنی حاجت طلب کرے‘‘۔
قبروں کی زیارت کے بےشمارفوائد ہیں، جن میں آخرت کی یاد دلانا، والدین کی مہربانیوںکی قدر کرنا، فوت شدگان کے لیے دعا کرنا،وسیع تر سماجی تعلقات کو تقویت بخشنا،زندگی اور موت کے اصولوں پر غور کرنا، اور دنیا ئے فانی کی فریب کاریوں سے محفوظ رہنا شامل ہے۔کیوں کہ ہم تمام دنیاوی اثرات کے متاثرین ہیں۔
پنجم: غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا:
یہ سماجی یکجہتی کانکتۂ عروج ہے۔ اس امداد کا ایک مظہر زکوٰۃفطرہ کی ادائیگی ہے،جس کا ایک ہی مخصوص فلسفہ ہے، غرباء کے درمیان خوراک اور کپڑوں کی تقسیم، مالی امداد، یتیموں اور مسکینوں کی کفالت اور غریبوں کے دلوں کو سرور بخشنا۔
رسول اللہ ﷺسے روایت ہے: ’’تمام مخلوقات اللہ کے کنبے ہیں اور ان میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبے کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو‘‘۔ آپ ﷺنےمزید فرمایا: ’’جو شخص کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اسےاثمار جنت سے سیرکرے گا،جوکسی پیاسے کو پانی پلائے گا، اللہ تعالیٰ اسے’’رحیق مختوم‘‘ (مہربندمشروب)سے سیراب کرے گا، جوکسی محتاج کو کپڑا پہنائے گا ،وہ تب تک خدا کی حفاظت میں رہے گا جب تک اس محتاج کے بدن پہ اس لباس کا ایک بھی ریشہ یا دھاگا باقی رہے گا۔ خدا کی قسم مومن کی حاجت روائی ایک مہینے کے روزے اور اعتکاف سے بہتر ہے۔
امام باقر ؑسے منقول ہے: ’’صدقہ بری موت کے ساتھ دنیا کی ستّر آفتوں سے بچاتا ہے، صدقہ دینے والا کبھی بری موت نہیں مرے گا، اور اس کاوہ اجرجو آخرت میں محفوظ ہےسو ہےـ‘‘
انتہائے کلام، عید ہمارے لیےہر سال رواداری، محبت، یکجہتی، پرہیزگاری اورروابط کے حوالے سے اعلیٰ انسانی اقدار کا ایک بلند اور منسجم مکتب بن کر آتی ہے۔ آئیے ہم عید الفطر کو روحانی تجدید اور انسانی تعلق کا حقیقی موقع بنائیں۔ عید محض ایک جشن سے کہیں زیادہ بلند ہے۔ یہ محبت اور ہمدردی کاوہ پیغام ہے جو پیغمبر اکرمؐ کے پیغام کے جوہر کا مجسم نمونہ ہے۔
اللَّهُمَّ أدْخِلْنَافي كُلِّ خَيْرٍ أدْخَلْتَ فيهِ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ وَأخْرِجْنَا مَنْ كُلِّ سُوءٍ أخْرَجْتَ مِنْهُ مُحَمَّداً وَآلَ مُحَمَّدٍ
خداوندتبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارا یہ دن خیر و عافیت، صحت، سلامتی، ایمان اور اسلام کے ساتھ دوبارہ لائے۔کہ وہی سب کچھ سننے والا اور جواب دینے والا ہے۔
آپ کا تبصرہ