۲۹ شهریور ۱۴۰۰ |۱۲ صفر ۱۴۴۳ | Sep 20, 2021
پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی

حوزہ/ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) دینیات فیکلٹی کے ڈین پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے عید الاضحیٰ کی قربانی کے سلسلے میں بتایا کہ اگر انسان میں تقویٰ ہو تو قربانی قبول ہوتی ہے اور تقویٰ نہیں ہو تو قربانی قبول نہیں ہوتی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے ای ٹی وی بھارت سے خاص بات چیت کے دوران بتایا کہ اہل سنت کا طریقہ یہ ہے کہ ہم پہلے دو رکعت عید الاضحیٰ کی نماز واجب ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد قربانی کرتے ہیں۔ قربانی یادگار ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی۔

جنہیں اللہ تعالیٰ نے خواب میں دکھایا کہ آپ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کررہے ہیں، نبی کا خواب سچا ہوتا ہے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہوتا لہٰذا اگلے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں آپ کو ذبح کررہا ہوں تو حضرت اسماعیل نے فرمایا آپ اپنے خواب کو پورا کرلیجئے۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لئے تیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ آزمائش تھی اور اس آزمائش میں آپ پورے اترے۔

انسان کو ذبح کرنا اللہ کا مقصود نہیں ہے، بندے کی صرف آزمائش مقصود ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کس حد تک محبت کرتے ہیں جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کامیاب ہوگئے۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک دنبہ بھیجا اور اس طرح قربانی کی گئی، جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک قربانی کو ایک سنت بنادیا۔

پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یہ قربانی کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے بابا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور آپ نے فرمایا کہ یہ سنت تا قیامت جاری ہے اور جہاں جہاں بھی دنیا میں مسلمان رہیں گے وہاں عید الاضحیٰ کے روز قربانی کریں گے۔

ایک جگہ قرآن کریم میں یہ بات خاص طور سے فرمائی کہ یہ جو قربانی آپ کرتے ہو خدا کے لئے کرتے ہو، یہ یاد رکھو کہ گوشت، ہڈی، کھال وغیرہ اللہ تعالیٰ کو نہیں پہنچتا ہے، بلکہ تمہارے دل کی قربانی کا تقویٰ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر انسان کے اندر تقویٰ ہو تو قربانی قبول ہوتی ہے اگر تقویٰ نہ ہو تو قربانی قبول نہیں ہوتی۔

قرآن کریم میں اللہ نے فرمایا کہ جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے جو برائیوں سے بچتے ہیں اور نیکی کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی قربانی قبول کرتا ہے۔ عید الاضحیٰ کی قربانی رسم نہیں ہے کہ لوگ برائیاں کرتے رہیں، جھوٹ بولتے رہیں اور قربانی کریں۔ صرف گوشت کھانا قربانی نہیں ہے بلکہ یہ تو غریبوں کا حق ہے۔ جو محتاج ہیں ان کو کھلاؤ۔ اس لیے قربانی کے گوشت کے ہم تین حصے کرتے ہیں، ایک اپنے لئے رکھتے ہیں، دوسرا غریبوں کے لئے اور تیسرا اپنے رشتے داروں کے لئے۔

پروفیسر سعود عالم قاسمی نے مزید کہا کہ ہر عالم ایک بات بتاتا ہے کہ قربانی کا جانور عیب دار نہ ہو۔ اس کا کان کٹا ہوا نہیں ہو، سینگ ٹوٹا نہ ہو، ٹانگ ٹوٹی نہ ہو۔ جانور میں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس میں کوئی عیب نہ ہو لیکن انسان میں جسم کے ساتھ عقل بھی ہوتی ہے، تو انسان کو بھی چاہیے تو وہ اخلاقی طور سے پاک ہو۔

قربانی انسان کے لئے ایک موقع ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنا اخلاص، اپنا نذرانہ، اپنی قربانی پیش کرے اور یہ بتائے کہ ہم آپ کی راہ میں ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 8 =