حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، امام زین العابدین (ع) انسٹیٹیوٹ آف تعلیمات قرآن و اھلبیت (ع) کی جانب سے معرفت القدس طلبہ و طالبات میں تقریر و آرٹ کامپیٹیشن منعقد ہوا۔
رپورٹ کے مطابق پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے مولانا نجم الحسن کراروی صاحب نے کیا۔
افتتاحی کلمات کے دوران برادر ذاکر علی شیخ، یونٹ صدر امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ امام علی رضا (ع) نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
سیمینار میں برادر سہیل احمد مطہری نے خطاب کرتے ہوئے کہا: احادیث میں وارد ہوا ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو بیت المقدس کی سرزمین سے خون ظاہر ہوا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرزمین کربلا اور سرزمین بیت المقدس کا باطن ایک ہی ہے۔
انہوں نے کہا: ظلم اور حق تلفی کسی بھی صورت میں قابلِ برداشت نہیں ہے چاہے وہ کسی مسلم ریاست پر ہو، کسی ثقافت پر ہو یا کسی اثاثے جیسے پانی، تیل اور معدنیات کے ذخائر پر ہو۔ ان مظالم کے خلاف آواز اٹھانا ہر غیور فرد کی ذمہ داری ہے۔
آخر میں مولانا محمد اسلم صادقی صاحب نے نزول قرآن کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا: لیلة القدر کا ترجمہ فاطمه زھراء سلام اللہ علیہا ہے۔ قرآن کریم کی آیات مبارکہ میں آپ کا قصیدہ سُرور و سُرود سے بیان کیا گیا ہے، آپ تمام خواتین جنت کی سردار ہیں، آپ تاجدار انبیاء و ختم المرتبت کی پارۂ جگر ہیں، امام المتقین علیہ السلام کی شریک حیات ہیں، نوجوان جنت، حسنین و کریمین علیہما السلام کی والدہ ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے لیے کھڑے ہو کر آپ کی عظمت و فضیلت کو اپنی امت کے لیے واجب قرار دیا۔
انہوں نے شب قدر کی اہمیت اور اس کا امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ذات سے تعلق بیان کرتے ہوئے کہا: یہ رات، فرشتوں کے نزول اور قرآن ناطق کی شب ہے۔ جس طرح قرآن، بشریت کی ہدایت کی کتاب ہے، اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام امتِ اسلامی کے حقیقی رہنما تھے۔ وہ ایمان اور نفاق کا معیار ہیں؛ ان کی محبت ایمان کی علامت اور ان سے دشمنی نفاق کی نشانی ہے۔
پروگرام کا اختتام دعائے خیر و دعا امام زمانہ عجل سے کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ