حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈیرہ اسماعیل خان/ شیعہ علماء کونسل اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح اس سال بھی جمعۃ الوداع کے موقع پر القدس ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت معروف عالم دین اور شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے کی۔
ریلی میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، نوجوانوں، بزرگوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ریلی کا آغاز کوٹلی امام حسین سے ہوا، جو ڈیرہ بنوں روڈ پر پہنچ کر پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم، القدس کی آزادی اور اسرائیل کے خلاف درج نعروں پر مشتمل پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جبکہ شرکاء کی جانب سے مسلسل "قبلہ اول کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی"، "فلسطین زندہ باد" "امریکا مردہ باد" اور "اسرائیل مردہ باد " کے فلک شگاف نعرے لگائے جاتے رہے۔
ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ رمضان توقیر نے کہا کہ القدس صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کا مشترکہ اور بنیادی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبلہ اول آج صیہونی قبضے میں ہے اور امت مسلمہ خواب غفلت میں ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں کی خاموشی اور دہرے معیار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکہ اور اس کے حواری اسرائیل کی کھلی سرپرستی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کی آزادی تک ہماری تحریک جاری رہے گی اور دنیا بھر کے حریت پسند القدس کی آزادی کے لئے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے مختلف مکاتب فکر کے علماء اور افراد کی ریلی میں شرکت کو اتحاد بین المسلمین کی عملی تصویر قرار دیا۔
اس موقع پر مولانا کاظم عباس ۔ مولانا ناصر توکلی ۔ منصور عباس ایڈوکیٹ۔ عاشق سلیمانی۔ قاری سراج الدین جنرل سیکرٹری وحدت اساتذہ(غیر سیاسی ) ۔ابو المعظم ترابی۔زبیر بلوچ صدر ایپکا نے شرکت کی اور خطاب بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ قبلہ اول کی آزادی پوری امت کی ذمہ داری ہے۔ مقررین نے کہا کہ اسرائیل عالمی دہشت گرد ہے جس نے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر رکھی ہے۔
مقررین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کی مکمل حمایت اور اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر بھرپور کردار ادا کرے۔
ریلی میں شریک افراد نے کہا کہ فلسطینی عوام تنہا نہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں اور آزادی القدس کے لئے اپنی اخلاقی، سفارتی اور عوامی حمایت جاری رکھیں گے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ القدس پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ریلی کا اختتام دعائے خیر اور فلسطینی شہداء کے لئے دعا کے ساتھ کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ