تحریر: نواب علی اختر
حوزہ نیوز ایجنسی | فلسطین کی آزادی اور غاصبین کے قبضہ سے قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کی تحریک کے تحت دنیا بھرکے مسلمان آج ایک بار پھر سراپا احتجاج ہیں اور دنیا بھر کے انسانیت کے علمبرداروں اور حقوق انسانی کی حفاظت کا دم بھرنے والوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انبیاء کی سرزمین کو آزاد کیا جائے اور نہتے فلسطینیوں پرصہیونیوں کی وحشیانہ بربریت بند کی جائے۔ اس سلسلے میں ہرسال منایا جانے والا عالمی یوم قدس، تسلط کے نظاموں کے خلاف حریت پسند اقوام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کی آواز اور استکبار کے خلاف ایک علامت ہے۔
یہ وہ دن ہے جب امت اسلامیہ اور دنیا کے بیدار ضمیر افراد ، جارح صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے، جرائم اور جبر کے خلاف متحد ہوکر ایک آواز میں فلسطینی عوام کے لیے انصاف اور آزادی کی صدا بلند کرتے ہیں۔ یہ دن کیلنڈر کا ایک دن نہیں بلکہ دنیا بھر کے آزادی پسند لوگوں کے درمیان ایک تاریخی میثاق ہے جنہوں نے ظلم اور جرائم کے خلاف، جنگ کا پرچم بلند رکھا ہے۔یوم القدس’بیت المقدس‘کی آزادی کے لئے ایک بین الاقوامی دن ہے اور اس کا تعلق عالم اسلام سے ہے۔ عالمی یوم القدس امام خمینی کے حکم سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن عالم اسلام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک اہم دن ہے جس میں غاصب صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے خلاف فلسطینی مزاحمت کی حمایت کی جاتی ہے۔
عالمی استکبار نے 1948 میں مسلمانوں کے قبلہ اول قدس شریف کو اس کے باشندوں سے چھین لیا۔ صیہونی حکومت کے اس غاصبانہ قبضے کے خلاف ابتدائی سالوں سے ہی فلسطین کے مسلمان عوام نے مزاحمت کی جو پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد امام خمینی نے بیت المقدس کو غاصب صہیونیوں کے چنگل سے آزاد کرانے کے لئے ایک مزاحمتی تحریک کے طور رمضان کے آخری جمعہ کو’یوم القدس‘ منانے کی سفارش کی۔ امام خمینی نے اپنے پیغام میں کہا کہ دنیا کے تمام مسلمان اور اسلامی حکومتیں اس غاصب اور اس کے حامیوں کا مقابلہ کریں۔ بانی انقلاب اسلامی کے پیغام نے مظلوم فلسطینیوں کے دلوں میں امید کی شمع روشن کی۔ امام خمینی کے نزدیک یوم القدس عالمی دن ہے اور یہ مظلوموں اور مستکبروں کے درمیان تصادم کا دن ہے۔
یہ ان اقوام کی مزاحمت کا دن ہے جو سپر پاور کے خلاف امریکی اور مغربی جبر کا شکار تھیں
یوم قدس مزاحمتی محور کے لیے بہت اہم دن ہے، کیونکہ یہ فلسطینی مزاحمت کی حمایت کے عزم کو تقویت دیتا ہے، اس دن مجاہدین فلسطین کے دفاع کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔اس سال ملت اسلامیہ عالمی یوم قدس ایک ایسے وقت منارہی جب غاصب اور سفاک صیہونی حکومت نے ایک بار پھر اپنا وحشیانہ چہرہ آشکار کر دیا ہے اور انتہائی وحشیانہ حملوں کے ساتھ غزہ کے نہتے اور مظلوم عوام کو بم دھماکوں، محاصروں اور بے رحمانہ قتل و غارت کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اس وقت غزہ کے باشندوں کے بے گھر ہونے، ان کی تباہی و بربادی اور بے گناہ فلسطینی بچوں کی شہادت کے دردناک مناظر دنیا کی نگاہوں کے سامنے ہیں اور یہ سب کچھ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور بچوں کو مارنے والی جارح حکومت کے حامیوں کے لیے ذلت و رسوائی کی دستاویزات ہیں۔یوم القدس دراصل غاصب صیہونی حکومت اور امریکہ کے لیے بھی پیغام ہے۔
قبلہ اول کا تقدس اس کے نام سے ہی عیاں ہے اور اس کی تقدیم و تقدس کے لیے یہ امر کافی ہے کہ اس سے مسلمانان عالم کے قبلہ اول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ خدا کے اس مقدس گھر کے جانب رخ کر کے اولین و سابقین مومنوں نے امام المرسلین حضرت محمد مصطفی کی امامت میں نماز ادا کی ،خدا وند عالم نے اپنے محبوب کو معراج پر لے جانے کے لیے روئے زمین پر اسی مقدس مقام کا انتخاب کیا جب سے اسکی بنیاد پڑی ہے ۔خاصانِ خدا بالخصوص پیغمبروں نے اسکی زیارت کو باعث افتخار جانا ہے، بیت المقدس بارگاہِ خدا وند کے ان اولین سجدہ گزاروں اور توحید پرستوں کا مرکز اول ہے جن کے سجدوں نے انسانیت کو ہزار سجدے سے نجات دِلا دی، وہی قبلہ اول آج امریکی کٹھ پتلی اسلام دشمن ، انسان دشمن ،جابر و غاصب اسرائیل کے ہاتھوں پامال ہوتا جا رہا ہے اور بزبانِ حال دنیا کے تمام مسلمانوں سے اپنی بازیابی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
1992 ء میں اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم رابن کے یہ ہیجان انگیز الفاظ قابل توجہ ہیں کہ ہر یہودی، چاہے وہ مذہبی ہو یا لادینی (سیکولر) اسکا عہد کرتا ہے کہ اے یروشلم۔۔! اگر میں تجھے بھول جاوں تو میرا دایاں ہاتھ برباد ہو۔ صہیونیوں نے بیان بازی پر ہی اکتفاء نہیں کیا ( نام نہاد اسلامی حکمرانوں کی طرح ) بلکہ اس سلسلے میں کئی ظالمانہ اور کٹھور اقدامات اٹھائے ،مکاری اور فریب کے تمام ممکنہ ہتھکنڈے استعمال کئے، فلسطینی مسلمانوں کو شہر بدر کر کے اس میں یہودیوں کو بڑے ہی شدو مد سے بسایا، وقتاً فوقتاً اس شہر میں اسلامی شعائر و آثار مٹانے کی کوشش کی حتیٰ کہ مسجد الاقصیٰ میں آگ بھی لگا دی، مسلمانوں کے مقامِ مقدسہ کی توہین کی گئی، بارہا مسجد اقصیٰ کے فرش کو فلسطین کے نمازیوں کے خون سے رنگین بنایا گیا، مسجد الاقصیٰ کے در و دیوار مظلوم فلسطینیوں کی حالالتِ زار پر لرزاں و ترساں ہیں اور نام نِہاد مسلم حکومتوں کے سربراہ اپنے عشرت کدوں میں بے حس و حرکت پڑے ہیں۔
ان شعائر اللہ کا اغیار کے قبضے میں ہونا اور ان کی روزانہ توہین در اصل مسلمان عالم کی لاچاری و محکومی کی کھلی دلیل ہے ۔ جہاں تک مسجد الاقصیٰ کی بازیابی کا تعلق ہے یہ کسی خاص خطے یا فرقے کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ مذہبی اور اخلاقی طور پر تمام مسلمانوں پر فرض عائد ہوتا کہ عالمی پیمانے پر حتی الوسع آزادی قدس کی تحریک کا اہتمام کریں جو جذباتی وابستگی ،روحانی وابستگی احترام کعبہ شریف کے تئیں دنیا بھر کے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے وہی احترام و تقدس قبلہ اول کے حوالے سے بھی ہونا چائے تو پھر اس طرح کے سوالات حقیقی مسلمان کے دل کو بے چین کیوں نہ کریں کہ بیت المقدس کی صیہونیت کے چنگل سے رہائی کے سلسلے میں عالمی پیمانے پر کوئی منظم اور عالم گیر تحریک کیوں نہیں چلائی جاتی۔۔؟ کیوں اس مسئلے کو طاق نسیاں کے حوالے کیا گیا ہے۔۔؟
عالمی یومِ قد س امت مسلمہ کے لیے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے ایک نعرے اورایک مقصد کے تحت مسلمانانِ عالم کی اقتدار کے مجتمع ہونے کا دن ہے، سبھی مسلم ممالک اورمسالک کے مابین اتحاد ویگانیت کا دن ہے، یوم اسلام ، یوم انسانیت اور یوم انقلاب ہے۔اتحاد کا معنی و مفہوم بہت آسان اور واضح ہے۔ اس سے مراد ہے مسلمان فرقوں کا باہمی تعاون اور آپس میں ٹکراو اور تنازعے سے گریز۔ اتحاد بین المسلمین سے مراد یہ ہے کہ ایک دوسرے کی نفی نہ کریں، ایک دوسرے کے خلاف دشمن کی مدد نہ کریں اور نہ آپس میں ایک دوسرے پر ظالمانہ انداز میں تسلط قائم کریں۔
مسلمان قوموں کے درمیان اتحاد کا مفہوم یہ ہے کہ عالم اسلام سے متعلق مسائل کے سلسلے میں ایک ساتھ حرکت کریں، ایک دوسرے کی مدد کریں اور ان قوموں کے درمیان پائے جانے والے ایک دوسرے کے سرمائے اور دولت کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
اتحاد بین المسلمین کا مطلب مختلف فرقوں کا اپنے مخصوص فقہی اور اعتقادی امور سے اعراض اور روگردانی نہیں ہے بلکہ اتحاد بین المسلمین کے دو مفہوم ہیں اور ان دونوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ پہلا مفہوم یہ کہ گوناگوں اسلامی مکاتب فکر، جن کے اندر بھی کئی ذیلی فقہی اور اعتقادی فرقے ہوتے ہیں، دشمنان اسلام کے مقابلے میں حقیقی معنی میں آپس میں تعاون اور ایک دوسرے کی اعانت کریں اور ہم خیالی اور ہمدلی برقرار کریں۔ دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے مختلف فرقے خود کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کریں، ہم خیالی پیدا کریں، مختلف فقہی مکاتب کا جائزہ لیکر ان کے اشتراکات کی نشاندہی کریں۔ علما و فقہا کے بہت سے فتوے ایسے ہیں جو عالمانہ فقہی بحثوں کے ذریعے اور بہت معمولی سی تبدیلی کے ساتھ دو فرقوں کے ایسے فتوے میں تبدیل ہو سکتے ہیں جو ایک دوسرے کے بہت قریب ہوں۔
مسلمان قوموں کو چاہئے کہ اپنی طاقت و توانائی کو، جو در حقیقت ان کے ایمان اور اسلامی ممالک کے باہمی اتحاد کی طاقت ہے، پہچانیں اور اس پر تکیہ کریں۔ اسلامی ممالک اگر ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دیں تو ایک ایسی طاقت معرض وجود میں آ جائے گی کہ دشمن اس کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات نہیں کر پائے گا اور ان ملکوں سے تحکمانہ انداز میں بات نہیں کر سکے گا۔ اگر مسلمان ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں اور اپنے اندر اپنائیت کا جذبہ پیدا کر لیں، ان کے عقائد میں اختلاف ہو تب بھی وہ دشمن کے آلہ کار نہ بنیں تو عالم اسلام کی سربلندی بالکل یقینی ہوگی۔
قومیں جہاں کہیں بھی میدان عمل میں اتر چکی ہیں، وہ اپنی اس موجودگی کو جاری رکھیں اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کریں تو امریکہ ہو یا امریکہ جیسا کوئی دوسرا ملک ان کے خلاف اپنی منمانی نہیں کر سکیں گے، فتح قوموں کا مقدر ہوگی،یہ ایک حقیقت ہے۔ عالم اسلام اگر مسلم امہ کی حرکت کو فتح و کامرانی کی سمت صحیح انداز سے جاری رکھنا چاہتا ہے تو کچھ ذمہ داریاں تو اسے قبول کرنی ہی پڑیں گی۔ ان ذمہ داریوں میں سب سے پہلا نمبر اتحاد کاہے۔
آپ کا تبصرہ