تحریر: عباس رضا
حوزہ نیوز ایجنسی I رمضان المبارک کے بابرکت ایام رخصت ہو رہے ہیں، اور ہر بندۂ مؤمن کے دل میں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے،کیا میرے روزے بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پا چکے ہیں؟ یہ سوال محض رسمی نوعیت کا نہیں، بلکہ ایک عمیق روحانی جستجو کی علامت ہے جو بندے کے باطن میں پنہاں اخلاص اور قربِ الٰہی کی طلب کی غمازی کرتا ہے۔
قبولیتِ عمل کے معیار اور پیمانوں کو جاننا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہم اپنی روحانی ترقی کو جانچ سکیں اور یہ دیکھ سکیں کہ آیا رمضان المبارک کی برکات نے ہمارے قلب و روح پر کوئی حقیقی اثر ڈالا یا نہیں۔ اس بارے میں شہید مرتضیٰ مطہری فرماتے ہیں:
إِذَا وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ أَنَّكَ قَدْ سَيْطَرْتَ عَلَيْهَا وَأَنَّ رُوحَ الْمَعْصِيَةِ قَدْ ضَعُفَتْ فِيكَ، فَاعْلَمْ أَنَّ صِيَامَكَ قَدْ قُبِلَ.
جب تم اپنے نفس میں یہ محسوس کرو کہ تم اس پر قابو پا چکے ہو اور گناہ کی رغبت تمہارے اندر کمزور پڑ گئی ہے تو جان لو کہ تمہارا روزہ قبول ہو چکا ہے۔
(المصدر: مقالات الإسلامیة، مرتضى مطهري)
یہی وہ کسوٹی ہے جس پر ہمیں اپنے روزوں کو جانچنا چاہیے۔ قرآن، احادیث اور اہل بیت علیہم السلام کے فرامین کی روشنی میں ہم ان علامات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ آیا ہمارے روزے اللہ کے ہاں مقبول ہو چکے ہیں یا نہیں۔
اللہ کے قرب کا احساس
قبولیتِ روزہ کی سب سے پہلی علامت بندے کے قلب میں اللہ کے قرب اور اس کی محبت کا شعور بیدار ہونا ہے۔ اگر رمضان المبارک کے بعد انسان خود کو اللہ سے زیادہ قریب پاتا ہے،اس کے ذکر میں سکون محسوس کرتا ہےاور دعا میں زیادہ لذت پاتا ہے تو یہ قبولیت کی واضح دلیل ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
(البقرة: 186)
اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو (کہہ دو کہ) میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔
نفس پر قابو پانے کی صلاحیت
رمضان المبارک صبر، تقویٰ اور ضبطِ نفس کی عملی تربیت فراہم کرتا ہے۔ اگر اس مقدس مہینے کے بعد بندہ اپنے جذبات، غصے، اور نفسانی خواہشات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ روزے کے اثرات کی ایک نمایاں علامت ہے۔
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
أَفْضَلُ النَّاسِ مَنْ جَاهَدَ هَوَاهُ وَ قَهَرَ نَفْسَهُ
"سب سے افضل انسان وہ ہے جو اپنی خواہشات کے خلاف جہاد کرے اور اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔"
گناہ ترک کرنے کا ارادہ
قبولیتِ روزہ کی ایک اور نشانی یہ ہے کہ انسان کے دل میں گناہوں سے نفرت اور ان سے اجتناب کی خواہش پیدا ہو۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے
إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ
(المائدة: 27)
بے شک اللہ پرہیز گاروں کے عمل ہی کو قبول کرتا ہے
اخلاقی بہتری اور نرم دلی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ
"میں اخلاق کی بلندیوں کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
اگر رمضان المبارک کے بعد ہمارے و مزاج میں نرمی، بردباری اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک بڑھ جائے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ روزے نے ہمارے اخلاق پر مثبت اثر ڈالا ہے۔
عبادات میں استقامت
قبولیتِ عمل کی ایک اور علامت یہ ہے کہ بندہ رمضان المبارک کے بعد بھی عبادات کا تسلسل برقرار رکھے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
مِنْ عَلامَاتِ قَبُولِ العَمَلِ إِتْبَاعُهُ بِالعَمَل
عمل کی قبولیت کی علامت یہ ہے کہ اس کے بعد بھی نیک عمل جاری رہے۔
حرام سے پرہیز اور حلال کی رغبت
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
لَا خَیْرَ فِی صَوْمٍ لَا وِقَایَةَ مَعَهُ
"اس روزے میں کوئی بھلائی نہیں جس کے ساتھ پرہیز گاری نہ ہو۔"
اگر رمضان المبارک کے بعد بھی ہم حرام چیزوں سے بچنے اور حلال امور کو اختیار کرنے میں سنجیدہ ہو جائیں، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے روزے مقبول ہو چکے ہیں
نتیجہ
ماہِ رمضان المبارک کی عبادات کا اصل مقصد انسان کو تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز کرنا ہے۔ اگر ہم محسوس کریں کہ رمضان المبارک کے بعد ہماری زندگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے، تو ہمیں اللہ کی اس نعمت پر شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم رمضان المبارک کی برکتوں کو اپنی پوری زندگی میں جاری رکھ سکیں۔
اللهم اجعل عواقب امورنا خیرا، و اجعلنا من عبادك الصالحین، بحق محمد و آل محمد۔
آپ کا تبصرہ