حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،قم المقدسہ/ سرزمین ہندوستان کے معروف عالم دین، مفسر قرآن، ادیب، شاعر اور محقق حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید ولی الحسن رضوی قم المقدسہ میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی خبر علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا باعث بنی ہے۔
مولانا مرحوم کا شمار برصغیر کے بزرگ علماء میں ہوتا تھا۔وہ آیت اللہ العظمیٰ سید ظفر الحسن رضوی طاب ثراہ کے فرزند تھے اور ایران کے ریڈیو تہران سے بھی وابستہ رہے وہ اسلام نابِ محمدیؐ کے ایک سچے مبلغ اور دینی و فکری میدان کے کہنہ مشق عالم تھے۔ انہوں نے قرآن کی تفسیر، دینی علوم، ادب اور شاعری میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی تحقیقی و علمی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
مولانا سید ولی الحسن رضوی نہ صرف عالم باعمل اور بہترین خطیب تھے بلکہ قوم و ملت کے ایک درد مند خدمت گزار بھی تھے۔ وہ اپنے شاگردوں اور عقیدت مندوں پر بے پناہ شفقت فرماتے تھے۔ ان کے انتقال سے علمی دنیا ایک بے لوث اور مخلص عالم سے محروم ہو گئی ہے۔
یہ سانحہ خاص طور پر استاذ العلام سرکار شمیم الملۃ آیت اللہ شمیم الحسن رضوی مدظلہ کے لیے صدمہ خیز ہے، جو مولانا مرحوم کے بڑے بھائی ہیں۔ اسی طرح مولانا سید زہیر ظفر رضوی اور بریر رضوی کے لیے یہ ایک بڑا صبر آزما موقع ہے، کیونکہ وہ اپنے والد گرامی کی شفقت سے محروم ہو گئے ہیں۔
ہم حوزہ نیوز ایجنسی کی جانب سے بارگاہِ خداوندی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ معصومین علیہم السلام میں جگہ عطا فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عنایت کرے۔ (آمین یا رب العالمین)
آپ کا تبصرہ