ہفتہ 6 دسمبر 2025 - 16:00
بچوں کی خواہشات نہیں، ان کی ارادی قوت مضبوط بنانا ضروری

حوزہ/ کبھی والدین محبت کی نیت سے بچے کی ضرورتیں فوراً پوری کر دیتے ہیں، مگر یہی طرزِ عمل اس کے ارادے کو کمزور کرتا ہے۔ اس سے بچہ صبر کرنا اور اپنی خواہشات کو کنٹرول کرنا نہیں سیکھتا، اور بڑے ہو کر اس کی ضبطِ نفس اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین سید علیرضا تراشیون نے اپنی ایک تقریر میں “بچوں کے ارادے کی تربیت” کے موضوع پر گفتگو کی، جسے آپ اہلِ دانش کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ والدین نیت تو اچھی رکھتے ہیں، مگر غیر محسوس انداز میں اپنے بچے کے ارادے کو کمزور کر دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک تین یا چار سالہ بچہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا ہے اور اسے پیاس لگتی ہے۔

باپ کہتا ہے: “تھوڑی دیر صبر کرو، پندرہ منٹ میں گھر پہنچ جائیں گے، وہاں پانی پی لینا۔”

لیکن ماں بچے کی بےچینی دیکھ کر کہتی ہے: “کیوں صبر کرو؟ آؤ، سامنے سے پانی کی بوتل لے لیتے ہیں۔” ماں سمجھتی ہے کہ وہ محبت کر رہی ہے اور اس کا انداز درست ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل بچے کے ارادے کو کمزور کرتا ہے۔

عام حالات میں تین سالہ بچہ دس یا پندرہ منٹ پانی کے بغیر رہ سکتا ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

اگر والدین ہمیشہ اسی طرح “ہر ضرورت فوری پوری” کرنے کا رویہ اپنائیں، تو بچے کی ارادی قوت کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔

یعنی وہ انتظار کرنا نہیں سیکھتا اور نہ ہی اپنی خواہشات کو مؤخر کرنے یا انہیں کنٹرول کرنے کی صلاحیت پیدا کر پاتا ہے۔

یہ عادت بڑے ہونے پر بھی اثر انداز ہوتی ہے: بچہ جو بچپن میں کبھی صبر کرنا نہ سیکھے اور جس کی ہر خواہش فوراً پوری کی گئی ہو، وہ جوانی میں محرکات، وسوسوں اور جذبات کے مقابلے میں کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کی فیصلہ کرنے اور خود کو سنبھالنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

آج کی طرزِ زندگی بھی اسی طرزِ عمل کو فروغ دے کر بچوں کی ارادی قوت کو کمزور کرتی ہے۔

ہم نادانستہ طور پر ایسے ماحول کی بنیاد رکھتے ہیں جو بچوں کو کم برداشت، بے صبر اور اپنی خواہشات پر قابو پانے میں کمزور بنا دیتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، بچوں سے حد سے زیادہ محبت اور ان کی ہر خواہش فوری پوری کرنے کا انداز، بظاہر تو اچھا لگتا ہے، لیکن حقیقت میں ان کی صلاحیتوں اور قوتِ فیصلہ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha