حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین علیاننژاد، آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نمائندے، نے پروگرام «زمزمِ احکام» میں ایک استفتاء کے جواب میں معظملہ کے فتوے کی وضاحت کی، جو ذیل میں قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔
سوال: اگر خاندان کا بڑا بیٹا ذہنی، نفسیاتی یا جسمانی مسائل (مثلاً ذہنی پسماندگی) کی وجہ سے اپنے والد کی قضا نمازیں اور روزے ادا کرنے کے قابل نہ ہو، تو کیا یہ ذمہ داری اگلے بیٹے پر عائد ہوگی یا نہیں؟
جواب: اگر والد یا والدہ کے انتقال کے وقت بڑا بیٹا نابالغ ہو یا دیوانہ ہو، تو جب بھی وہ بالغ اور عاقل ہو جائے، اس پر لازم ہے کہ اپنے والدین کی وہ قضا نمازیں اور روزے ادا کرے جو انہوں نے کسی شرعی عذر کی وجہ سے ترک کیے تھے۔
لیکن اگر وہ پوری زندگی عاقل نہ ہو سکا، تو دیگر اولاد پر کوئی شرعی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
البتہ اگر دوسرے بچے از خود نیابت کی نیت سے یہ عبادات انجام دیں، تو یہ ایک نہایت اچھا عمل اور والدین کے ساتھ احسان شمار ہوگا، جس کی قرآن مجید میں بھی ترغیب دی گئی ہے۔









آپ کا تبصرہ