منگل 6 جنوری 2026 - 05:08
مذہب تشیّع میں انتظار کا مقام (حصہ اوّل)

حوزہ/ وہ چیز جو انسان کو زندگی سے وابستہ رکھتی ہے، اسے امید عطا کرتی ہے اور اس کی فکری و نفسیاتی پریشانیوں اور رنج و الم کو قابلِ برداشت بناتی ہے، روشن، بامقصد اور بہترین مستقبل کی امید اور انتظار ہے؛ ایسا مستقبل جس میں انسان کی روحانی اور جسمانی تمام ضرورتوں کا مکمل اور ہمہ گیر جواب موجود ہو۔

حوزہ نیوز ایجنسی | انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تازگی اور نشاط کا دار و مدار نعمتِ امید و انتظار پر ہے۔ اگر انسان کو مستقبل سے کوئی امید نہ ہو تو زندگی اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔ وہی چیز جو زندگی کو جاذبِ نظر بناتی ہے، اس میں کشش پیدا کرتی ہے اور سکون بخشتی ہے، ایک روشن اور اچھے مستقبل کا انتظار اور اس سے وابستہ امید ہے، جس میں انسان کی تمام روحانی اور جسمانی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ اسی امید اور انتظار کے سہارے انسان مشکلات، مصائب اور آزمائشوں کو برداشت کرتا ہے اور اپنے سفرِ حیات کو جاری رکھتا ہے۔

شیعہ مکتبِ فکر نے اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے فیض یاب ہو کر اسی امید اور انتظار کو اپنے فکری و عملی راستے کا چراغ بنایا ہے۔

«انتظارِ فرج» کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم

لغوی اعتبار سے «انتظار» کے معنی کسی کی راہ دیکھنا ہے، جبکہ اصطلاح میں اس سے مراد آخری حجت الٰہی، یعنی امام زمانہ عجل‌الله‌تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کا انتظار کرنا اور عدلِ الٰہی پر مبنی عالمی حکومت کے قیام میں ان کی نصرت کے لیے خود کو آمادہ کرنا ہے۔

دوسرے لفظوں میں: «انتظار ایک روحانی کیفیت ہے جو انسان کے اندر اس شے کے لیے آمادگی پیدا کرتی ہے جس کا وہ منتظر ہوتا ہے، اور اس کی ضد یأس اور ناامیدی ہے۔ جتنا انتظار شدید اور اس کی شمع زیادہ فروزاں ہو گی، اتنی ہی انسان کی آمادگی میں اضافہ ہو گا»۔ مکیال‌المکارم، جلد ۲، صفحہ ۲۳۵۔

لفظ «فرج» کے معنی ہیں: کشادگی اور گشائش۔ انتظارِ فرج دراصل انسان کی فطری کمال پسندی سے جنم لیتا ہے، اگرچہ بعض دیگر عوامل بھی اس کے محرک بن سکتے ہیں۔

اس تصور کے برخلاف جو بعض افراد رکھتے ہیں کہ مہدویت کا عقیدہ محض شیعوں کی اختراع ہے، حقیقت یہ ہے کہ عقیدۂ مہدویت نہ صرف اہلِ بیت علیہم السلام کے پیروکاروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ اسلامی عقائد کا ایک بنیادی اور اہم جز ہے، جو قرآنِ مجید کی بشارتوں اور رسولِ اکرم صلی‌الله‌علیه‌وآله‌وسلم کی تعلیمات کی بنیاد پر تمام اسلامی مذاہب میں راسخ ہوا ہے۔ حضرت مهدی عجل‌الله‌تعالیٰ فرجہ الشریف سے متعلق روایات، جس طرح شیعہ مصادر میں موجود ہیں، اسی طرح اہلِ سنت کی متعدد معروف کتب میں بھی نقل ہوئی ہیں۔

چنانچہ حق کی حتمی فتح اور ایک عظیم الٰہی شخصیت کے ذریعے عالمی عدل کے استقرار پر ایمان—جسے اسلامی روایات میں «مہدی» کہا گیا ہے—وحیِ الٰہی سے ماخوذ ہے۔ اسی بنا پر اس دور کا انتظار نہ صرف تمام آسمانی ادیان کے پیروکاروں کے عقائد میں پایا جاتا ہے بلکہ مسلمانوں کے نزدیک بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

ثقافتِ تشیّع میں انتظار کا مقام

روایات کا ایک اجمالی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن احادیث میں انتظار کا ذکر آیا ہے، وہ مجموعی طور پر دو بنیادی اقسام میں تقسیم کی جا سکتی ہیں:

1. انتظارِ فرج بمعنائے عام

2. انتظارِ فرج بمعنائے خاص

جاری…

کتاب «درسنامۂ مهدویت» مصنف: خدامراد سلیمیان (معمولی ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha