جمعرات 15 جنوری 2026 - 16:37
اگر شکست خوردہ تجربہ دہراؤ گے تو وہی بلکہ اس سے بھی سخت جواب ملے گا

حوزہ / ایران کے وزیر خارجہ نے کہا: میں امریکی صدر کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ گذشتہ سال جون میں کی گئی غلطی نہ دہرائے۔ اگر شکست خوردہ تجربہ دوبارہ دہراؤ گے تو وہی بلکہ اس سے بھی سخت جواب ملے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران میں ہوئے حالیہ واقعات کے دہشت گردوں کو بیرون ملک سے براہ راست ہدایات مل رہی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا: شرپسند اور دہشت گرد داعش کی پیروی کرتے ہوئے نہتے عوام اور سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کررہے تھے۔ بعض مقامات پر ان سنگدل ظالموں نے پولیس اہلکاروں کو زندہ جلادیا اور بعض کا سر تن سے جدا کردیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا: ہم تین دن تک ایسے دہشت گردوں کا سامنا رہا جو فقط لوگوں کو قتل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ ایران میں خون خرابہ کر کے ٹرمپ اور صیہونی حکومت کو ایران میں مداخلت کا جواز فراہم کریں۔

انہوں نے کہا: 8 جنوری کو ملک گیر دہشت گردی ہوئی۔ اگر دیکھا جائے تو در حقیقت یہ صہیونی حکومت کے ساتھ 12 روزہ جنگ کا تیرہواں دن تھا۔

انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: میں امریکی صدر کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ گذشتہ سال جون میں کی گئی غلطی نہ دہرائے۔ اگر شکست خوردہ تجربہ دوبارہ دہراؤ گے تو وہی بلکہ اس سے بھی سخت جواب ملے گا۔

سید عباس عراقچی نے کہا: ہم امن پسند قوم ہے۔ جب بھی جنگ اور مذاکرات کی بات ہوئی تو ہم نے ہمیشہ مذاکرات کو بہتر آپشن قرار دیا، ہم ہمیشہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں لیکن امریکہ سے اچھی یادیں وابستہ نہیں ہیں۔ یہ امریکہ ہی تھا جس نے ان دونوں آپشنز میں سے جنگ کو اختیار کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا: ہم مکمل تیار ہیں۔ امریکی صدر نے اگر ایران پر حملے کی غلطی دہرائے تو اسے اور اس کے حامیوں کو سخت پشیمان ہونا پڑے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha