بدھ 21 جنوری 2026 - 18:37
جو بھی حق کے مقابلے میں کھڑا ہو گا، یقینی طور پر شکست کھائے گا

حوزہ / حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے کہا: جو کوئی بھی حق کے مقابلے میں کھڑا ہوگا، یقینی طور پر شکست کھائے گا لیکن ساتھ ہی، اس نظامِ ہستی میں ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنا فرض درستی سے انجام دے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے مسجد اعظم قم میں اپنے ہفتہ وار درس اخلاق میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے نورانی کلام «مَنْ أَبْدَی صَفْحَتَهُ لِلْحَقِّ، هَلَکَ» کی تشریح کرتے ہوئے کہا: حق کے مقابلے میں کھڑا ہونا فرد اور معاشرے کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا: حق ایک مضبوط، مقاوم اور ناقابلِ شکست حقیقت ہے اور پورا نظامِ ہستی حق کے حق میں گواہی دیتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی فرد یا معاشرہ جو حق کے مقابلے میں کھڑا ہوگا وہ ہلاکت اور شکست سے دوچار ہو گا۔

حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے کہا: نظامِ خلقت میں کوئی بھی مخلوق انسان کی طرح گمراہی اور گناہ میں مبتلا نہیں ہوتی۔ واحد مخلوق جو کبھی کبھار حق کے راستے سے بھٹک جاتی ہے وہ انسان ہے اور یہ انحراف یا تو «جہل» کی وجہ سے ہے جس سے نکالنے کی ذمہ داری حوزہ اور یونیورسٹی پر عائد ہوتی ہے یا پھر «جہالتِ فردی» کی وجہ سے ہے جسے دور کرنے کی ذمہ داری مسجد اور حسینیہ و امام بارگاہ پر ہے لیکن نظامِ امامت اور امت کی اصل ذمہ داری «جاہلیت زدائی» اور جاہلیت کا خاتمہ ہے جس کی بنیاد پر معاشرے کو حق کی طرف ہدایت دی جاتی ہے۔

اس مرجع تقلید نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں نہج البلاغہ کی حکمت نمبر 91 «إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَمَلُّ کَمَا تَمَلُّ الْأَبْدَانُ، فَابْتَغُوا لَهَا طَرَائِفَ الْحِکْمَةِ» کے حوالے سے دل کی اُداسی اور تھکن کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا: جس طرح جسم تھک جاتا ہے اور علاج، آرام اور تدبیر کا محتاج ہوتا ہے، اسی طرح دل بھی کبھی کبھار اُداس ہو جاتا ہے اور اس کا علاج حکمت کی نادر باتیں، حکیمانہ نصیحتیں، آیاتِ الہی، مناجات جیسے مناجاتِ شعبانیہ اور اہلِ بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے حرموں سے انس ہے کیونکہ اگر دل تھکا ہوا ہو تو انسان اپنی عبادت سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے درسِ اخلاق کے اختتام پر قرآن و عترت کے سائے میں معاشرے، ذمہ داران اور اسلامی نظام کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha