حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہرے کے دوران نمازِ جماعت ادا کرنے والے مسلمانوں پر پولیس کی کارروائی کے بعد مسلم رہنماؤں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرین سڈنی ٹاؤن ہال کے باہر جمع تھے اور انہوں نے اسرائیلی صدر کے دورۂ آسٹریلیا کے خلاف احتجاج کیا۔ اسی دوران جب مظاہرین نمازِ جماعت ادا کر رہے تھے تو پولیس نے مداخلت کی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو، جسے آسٹریلوی سینیٹر ڈیوڈ شوبریج نے بھی شیئر کیا، میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ ویڈیو میں ایک شخص کو زمین پر گراتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
متاثرہ شخص، شہباز جمال، نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے دانستہ طور پر ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھا جو پولیس، ٹریفک اور عام لوگوں کی آمدورفت سے دور ہو تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ ان کے بقول چند افراد نے نمازگزاروں کے گرد حفاظتی حصار بھی قائم کیا تھا، تاہم اس کے باوجود پولیس نے آگے بڑھ کر انہیں دھمکایا۔
انہوں نے کہا کہ جب اطراف میں موجود افراد نے پولیس کو بتایا کہ یہ صرف سادہ سی نمازِ جماعت اور اجتماعی دعا ہے، تب بھی پولیس اہلکاروں نے سختی برتی۔ ان کے مطابق پہلے آخری صفوں میں موجود خواتین کو دھمکایا گیا اور منتشر کیا گیا، اس کے بعد مردوں کو ایک ایک کر کے زبردستی ہٹایا گیا۔ شہباز جمال کا کہنا تھا کہ انہیں سڈنی جیسے شہر میں اس طرح کے رویے کی توقع نہیں تھی۔
ادھر ہیومن رائٹس واچ نے منگل کی شام جاری بیان میں کہا ہے کہ حکومت نیو ساؤتھ ویلز کو چاہیے کہ وہ پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی فوری تحقیقات کرے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مناسب تادیبی یا قانونی کارروائی عمل میں لائے۔
واقعے کے بعد آسٹریلیا میں مذہبی آزادی اور پرامن احتجاج کے حق سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ مسلم تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔









آپ کا تبصرہ