تحریر: مولانا گلزار جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی | اس شمس نما روشن حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ خالقِ دو عالم نے اپنی بہترین مخلوق حضرتِ انسان کو قرار دیا اور تمام تر تاجِ کرامت اس کے ماتھے پر سجایا۔ لیکن اس تاج میں قدرت نے احتیاج و احتجاج کے عناصر بھی رکھے۔ کون سی مخلوق ہے جو محتاج نہیں؟ اور کون سا محتاج ہے جو دستِ طلب پھیلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا؟
مالک بے نیاز ہے اور اس نے اس انسان کو نیاز مند بنایا تاکہ وہ اس کی بارگاہ میں مانگنے کا سلیقہ سیکھتا رہے۔ بقول علامہ ذیشان حیدر جوادی، اسی طلب کو درحقیقت "دعا" کہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جب انسان ناواقفِ اسرارِ طلب ہوتا ہے تو وہ محتاجوں سے مانگتا ہے، اور جب واقفِ رموزِ طلب ہوتا ہے تو بے نیاز سے مانگتا ہے۔
"منگتوں سے مانگو گے تو ذلیل کہلاؤ گے، منّان سے مانگو گے تو عزیز کہلاؤ گے۔"
محتاج سے مانگنا تملق ہے، خوشامد ہے، تعریفِ بے جا ہے، تواضعِ بے محل ہے، استدعا ہے، التماس ہے؛ مگر بے نیاز سے مانگنا عبودیت ہے، فروتنی ہے، رازِ زندگی اور رمزِ بندگی کا اعلان ہے۔
دعا تقاضائے فطرت، عادتِ بشریت اور مزاجِ انسانی سے مطابقت رکھتی ہے۔
دعا کے الفاظ کی ادائیگی آسان ہے، اور معنی کے اسرار کو سمجھنا نہایت مشکل مرحلہ ہے۔
دعا سرمایۂ معرفت کا سرمہ چشمِ طلب میں سجانے کا نام ہے۔
دعا کشکولِ طلب سنوارنے کا نام ہے۔
دعا دامنِ طلب دراز کرنا ہے۔
دعا ایک نیاز مند کا بے نیاز سے نیاز طلب کرنا ہے۔
سمندروں میں راستہ دعا بناتی ہے۔
بحرِ مصائب میں شناوری دعا سکھاتی ہے۔
شبِ ہجراں میں شمعِ امید دعا جلاتی ہے۔
بحرِ گرسنگی میں روزی دعا کھلاتی ہے۔
صحرائے تشنگی میں شرابِ زندگی دعا پلاتی ہے۔
دعا، معبود پر اعتماد، دعا، چشمِ تمنا میں توکل کا کاجل لگا کر دستِ طلب دراز کرنے کا سلیقہ ہے۔
دعا، سرمایۂ حیاتِ انسانی اور احتیاجِ مزاجِ بشری کی عکّاس ہے۔
دعا عبد و معبود کے درمیان ایک مضبوط وثیق اور معتبر ترین رشتہ ہے۔
دعا خدا اور بندے کے درمیان ایک گہرا ارتباط ہے۔
دعا جوہرِ حیات، جوہرِ عبودیت اور احساسِ عظمت ربوبیت سے عبارت ہے۔
دعا میں دستِ طلب اگر اشک فشانی کے ساتھ ہو تو یہ اس قدر مؤثر ہیکہ غضبِ الہی کو ٹھنڈا کر دے ۔
دعا، حال میں حالت کی تبدیلی کی طلب کا نام نہیں، بلکہ حال میں مستقبل کا استقلال و استقامت ہے۔
دعا، الفاظ کے پیکر میں قلبی تمناؤں کا بروئے کار لانا اور فریضۂ حقیقی سے سبکدوش ہونے کا استعارہ ہے۔
دعا، صراطِ صبر پر سکون و اطمینان کی طلب اور تڑپ ہے۔
دعا، رمزِ حیات، رازِ بندگی، فخرِ عبدیت ہے۔
دعا فکریہ اسلحہ ہے، جس سے صلاح و فلاحِ بشریت کی راہیں ہموار کرنے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔
دعا غرض بر آوری، خود غرضی، خود پسندی، عجب و تکبر کا نام نہیں، بلکہ خود سپردگی، فروتنی، زمینِ عبودیت پر بچھ جانے کا نام ہے۔
دعا کی صدا خفیف ہوتی ہے لیکن اس کی قوت سلطنتوں کے ایوانوں کے ستونوں میں زلزلہ پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
دعا، دقتِ نظر، رقتِ قلب، اور دستِ طلب کے ساتھ چشمِ تمنا کی نمی میں چھپی ہوئی داستانِ حقیقت کا نام ہے۔
دعا، صاحبانِ ایمان کی تعمیرِ کردار اور ظالمین کے خلاف احتجاج کی تعبیر کا بہترین ذریعہ ہے۔
بقول علامہ ذیشان حیدر جوادی مرحوم:
> "جو کام امیر المؤمنینؑ نے اپنے خطبوں سے لیا ہے، وہی کام امام سجادؑ نے اپنی دعاؤں سے لیا۔"
اور اس طرح واضح کر دیا کہ علیؑ کا کام پیغامِ الہی کا پہنچا دینا اور ظلم کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔
حالات سازگار ہوں اور مخاطب مل جائیں تو یہ کام ان کی طرف رخ کر کے خطبے کی شکل میں انجام دیا جاتا ہے۔
حالات ناسازگار ہوں، مسائل پیچیدہ ہوں، اور زمانہ منہ موڑ لے تو اس سے منہ پھیر کر مالکِ کائنات کو مخاطب بنا کر اس سے حالات کی فریاد کی جاتی ہے، اور اس طرح حالات کی تنقید کو دعاؤں کی شکل میں ایک دستاویز بنا کر محفوظ کر دیا جاتا ہے، جو تاریخ کے سنہرے صفحات میں صحیفۂ سجادیہ کا عنوان قرار پاتی ہے۔
ہاں! اگر دنیا رازِ دعا کو جاننا چاہتی ہے، تو پھر اُس کی دہلیز پر آئے جو دانائے رموزِ مشیّت ہے، ناز پروردۂ آغوشِ رسالت ہے؛
جس نے جوان بیٹے کا لاشہ اٹھایا؛
جس نے تپتے ہوئے صحرا میں تشنگی کے ارتقاء میں، جہاں سورج سوا نیزے پر ہے؛
جہاں زمین، زندگی پر موت کے جھٹکے لگا رہی ہو؛
جسم میں رعشہ ہو، تن میں لرزہ ہو، غبار آلود ماحول ہو؛
سورہ والعادیات کی تفسیرِ حقیقت یا اس کی مصداقیت کا لباس زیب تن کر رہی ہو؛
جہاں کونین میں تہلکہ ہے، زمینِ کربلا میں زلزلہ ہے، اور علقمہ کی موجوں میں تلاطم ہے؛
فرات کا جسم نیلا پڑ چکا ہے؛ نیزوں سے پانی اچھل رہا ہے؛
عصرِ عاشور میں یوں تو پوری کائنات مضطرب تھی، مگر صرف ایک شخصیت تھی جو سر کو سجدۂ الہی میں رکھے ہوئے تھی۔
جسم پر زخموں کے گلشن کھلے تھے، تن بدن تیروں پر معلق تھا، مگر اس کی زبانِ عقیدت پر
"سبحان ربی الاعلیٰ و بحمدہ"
کی تسبیح گونج رہی تھی۔
زہرا ع کا چاند شام کی فوجوں کے بادل میں چھپ گیا تھا۔
آسمان کی نگاہیں حسینؑ کو تلاش کرنے لگی تھیں اور شاید اس طرح آسمان پوچھ رہا تھا:
> فارسی شاعر کہتا ہے:
عرش پرسید قرارِ دلِ کونین کجاست؟
آسماں گفت کہ مشغولِ دعاست حسینؑ۔
یعنی:
عرش نے پوچھا: دلِ کونین کا قرار کہاں ہے؟
آسمان نے کہا: حسینؑ دعا میں مشغول ہیں
گویا عبد اپنے معبود سے محو راز و نیاز ہےاس حال میں کہ
زخموں سے چور چور ہیں دشمنان دین مکمل اذیتیں دے رہے ہیں
مگر لب عصمت سے یہ معنی خیز الفاظ عیاں ہو رہے ہیں جو ریگ زار زمین کربلا پر خون کے قطروں سے عالم انسانیت کے لئیے دستاویزات تیار کررہے تھے
يَا مَنْ أَظْهَرَ الْجَمِيلَ وَسَتَرَ الْقَبِيحَ،
يَا مَنْ لَمْ يُؤَاخِذْ بِالْجَرِيرَةِ،
وَلَمْ يَهْتِكِ السِّتْرَ،
يَا عَظِيمَ الْعَفْوِ،
يَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ،
يَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ،
يَا بَاسِطَ الْيَدَيْنِ بِالرَّحْمَةِ،
يَا صَاحِبَ كُلِّ نَجْوَى،
يَا مُنْتَهَى كُلِّ شَكْوَى،
يَا كَرِيمَ الصَّفْحِ،
يَا عَظِيمَ الْمَنِّ،
يَا مُبْتَدِئًا بِالنِّعَمِ قَبْل اسْتِحْقَاقِهَا،
يَا رَبَّنَا وَسَيِّدَنَا،
اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا،
وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ،
إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ۔ترجمہ
اے وہ ذات جو خوبیاں ظاہر فرماتا ہے اور عیبوں پر پردہ ڈال دیتا ہے،
اے وہ جو گناہ پر فوراً گرفت نہیں کرتا، اور پردہ دری نہیں کرتا،
اے عظیم معاف کرنے والے،
اے درگزر کرنے والے،
اے وسیع مغفرت والے،
اے رحمت کے ہاتھ پھیلانے والے،
اے ہر راز کے جاننے والے،
اے ہر فریاد کے منتہا،
اے کرم کے ساتھ چشم پوشی فرمانے والے،
اے عظیم احسان کرنے والے،
اے استحقاق سے پہلے نعمتیں عطا کرنے والے،
اے ہمارے پروردگار اور ہمارے مولا!
ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما،
اور جو تو جانتا ہے اس سے درگزر فرما،
بے شک تو ہی غالب اور نہایت کریم ہے۔
یہ دعا عبدیت کے کامل شعور کی عکاس ہے۔ امام حسین علیہ السلام اس میں بندے کو یہ سکھاتے ہیں کہ:
اللہ خوبیوں کو ظاہر اور عیوب کو چھپاتا ہے؛
وہ سزا میں جلدی نہیں کرتا بلکہ مہلت، حلم اور رحمت سے کام لیتا ہے؛
بندہ اپنی نجات کو اعمال پر نہیں بلکہ عفو، کرم اور رحمتِ الٰہی پر چھوڑ دے؛
یہ دعا انسان میں تواضع، خود احتسابی اور حسنِ ظن باللہ پیدا کرتی ہے۔
یہی دعا کربلا کے پیغام کا باطنی رخ ہے:
حق کے لیے قیام، اور رب کے سامنے کامل انکسار اس کی ذات پر کس قدر اعتماد و اعتبار تھا اسکی وضاحت ان کلمات سے با خوبی ہو سکتی ہے
رب کریم ہماری دعاؤں کو سند قبولیت عطا فرمائے اور سرکار سید الشہداء کی سیرت طیبہ پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ