حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مؤسس مدرسہ علمیہ حضرت قائم(عج) چیذر آیت اللہ ہاشمیعلیا نے ماہِ رمضان المبارک کے موقع پر مسجد حضرت قائم(عج) میں منعقدہ اپنے دوسرے خطاب میں اسلام اور ایمان کے درمیان فرق کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر متعدد روایات موجود ہیں اور ضروری ہے کہ اسلام اور ایمان کے اثرات کو درست طور پر سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام اور ایمان ایک جیسے نہیں ہیں۔ اسلام اس وقت محقق ہوتا ہے جب کوئی شخص “لا الٰہ الا اللہ، محمد رسول اللہ” کا اقرار کرتا ہے۔ کلمۂ شہادت ادا کرنے سے انسان کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہو جاتا ہے اور اس پر اسلام کے فقہی احکام جاری ہو جاتے ہیں؛ اس کا بدن پاک شمار ہوتا ہے، اس کی جان محترم ہوتی ہے، اس کا نکاح صحیح ہوتا ہے اور وہ مسلمانوں کے معاشرے کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ سب اسلام کے ظاہری آثار ہیں۔
استادِ حوزہ علمیہ نے واضح کیا کہ اسلام ظاہر سے متعلق ہے، جبکہ ایمان دل کی کیفیت ہے۔ انسان اسلام سے ایمان کی طرف سفر کرتا ہے، نہ کہ اس کے برعکس۔ جب تک ایمان حاصل نہ ہو، صرف ظاہری اسلام ہی موجود ہوتا ہے؛ لیکن ایمان اس سے بلند درجہ رکھتا ہے اور یہ پختہ قلبی عقیدہ، باطنی تصدیق، اطاعتِ الٰہی اور خدا کے سامنے مکمل تسلیم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
انہوں نے امام باقر علیہ السلام کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمان وہ چیز ہے جو دل میں راسخ ہو جائے اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ ہو۔ عمل اور تسلیم کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔
آیت اللہ ہاشمی علیا نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کعبہ مسجد سے افضل ہے؛ جو شخص کعبہ میں داخل ہوتا ہے وہ مسجد میں بھی داخل ہوتا ہے، لیکن جو مسجد میں داخل ہو، ضروری نہیں کہ کعبہ میں بھی داخل ہوا ہو۔ اسی طرح ایمان، اسلام کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن ہر مسلمان لازماً صاحبِ ایمان کے درجے پر فائز نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر دو افراد نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسے اعمال انجام دیتے ہوں، لیکن ان کے ایمان کا درجہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ایمان کے مراتب مختلف ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا ایمان دوسروں کے ایمان سے قابلِ موازنہ نہیں۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف ظاہری اسلام کافی نہیں، بلکہ ایمان ایک باطنی اور قلبی حقیقت ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ فقہی احکام کے اعتبار سے اسلام کے تحقق کے ساتھ انسان پر شرعی ذمہ داریاں نافذ ہو جاتی ہیں، لیکن ایمان میں قلبی عقیدہ اور ولایت کی قبولیت بھی شامل ہے۔ لہٰذا ایمان، اسلام سے بلند تر درجہ رکھتا ہے اور ہر مسلمان لازماً اس مرتبہ پر فائز نہیں ہوتا۔ انسان پہلے کلمۂ شہادت کے ذریعے مسلمان بنتا ہے، پھر خالص عمل، مضبوط عقیدہ اور اوامرِ الٰہی کی کامل پیروی کے ذریعے ایمان کے مقام تک پہنچتا ہے۔









آپ کا تبصرہ