حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سانحہ ترلائی کلاں اسلام آباد ماضی میں ہونے والے دیگر کئی واقعات کی طرح متعدد سوالات چھوڑ گیا ہے۔ ان سوالات کا رُخ جہاں ریاست اور حکومت کی جانب ہے وہاں مسجد انتظامیہ سے لے کر مس ہینڈل کرنے والی شیعہ جماعت کی طرف بھی ہے جس نے اپنی من مانی اور انا کے آگے شہداء کے خون اور مکتبی وحدت کو بالکل حیثیت نہیں دی۔
گذشتہ دنوں ہم نے جب اسلام آباد ، مری اور تلہ گنگ میں شہداء کے لواحقین و وارثین سے ایک وفد کی صورت تعزیتی ملاقاتیں کیں جس میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے رہنماء سید اظہار بخاری ، علامہ امداد حسین صابری ، علامہ سید جعفر حسین نقوی ، علامہ غلام قاسم جعفری ، سید نزاکت حسین نقوی ، سید شفقت حسین سبزواری ، سید باقر کاظمی شامل تھے تو ورثاء نے بہت سے ایسے نقائص کی نشاندہی کی جو ابھی تک سوشل میڈیا پر بیان نہیں کیے گئے ہم انہیں نقائص نہیں بلکہ سازش کی کڑیاں کہیں گے۔۔
حیرت کی بات ہے کہ سانحہ ترلائی کو رونما ہوئے بیس روز گذر چکے ہیں لیکن اتنے بڑے سانحے کی ایف آئی آر درج ہونے یا نہ ہونے کی کوئی کنفرم اطلاع نہیں۔ بس اندازے اور چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ ورثاء کو بتایا نہیں جا رہا کہ جائے وقوعہ کو جس عجلت میں دھو دھلا کر تزئین وآرائش کرادی گئی ہے ویسے ہی ایف آئی آر درج نہ کرکے یا ورثاء کو لاعلم رکھ کر شہداء کا خون بھی ضائع کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی آر کے معاملے میں یوں خاموشی اور لاعلمی بذات خود کسی منصوبے کی نشاندہی کرتی ہے۔ بعض اوقات ایسے واقعات کی ایف آئی آر حکومتی مدعیت میں درج کر کے کسی بڑے مقصد یا وجوہ کی بنیاد پر سیل کر دی جاتی ہے اور واقعہ کے متعلقین کو بتا دیا جاتا ہے کہ فی الحال ایف آئی آر سیل کر دی گئی ہے لیکن اس سانحہ میں تادم تحریر ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے۔۔
زخمیوں سمیت دیگر نمازیوں سے شہادتیں نہیں لی جارہیں اور ورثاء سے بھی ان کا باقاعدہ موقف نہیں لیا جا رہا۔ پہلے دن سے ہی سارے امور میں مسجد انتظامیہ اور ایک مخصوص گروہ سے وابستہ عناصر کو استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں وارث قرار دیتے ہوئے سارے فائر ان کے کاندھے پر رکھ کر کیے جارہے ہیں حالانکہ شہداء کے ورثاء کی قطعی اکثریت پہلے روز سے ہی مسجد انتظامیہ اور اس مخصوص گروہ سے اپنی لا تعلقی کا اعلان کر چکی ہے۔
لگ ایسا رہا ہے کہ ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ کشیدگی اور ایک دوسرے کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے شور میں سانحہ ترلائی کلاں کی آواز دبا دی جائے گی اور متاثرین و ورثاء کو ملکی و قومی حالات کی حساسیت دکھا کر پہلے صبر اور پھر مستقل خاموشی اختیار کرنے کا سبق دیا جائے گا تاکہ ماضی کے واقعات کی طرح سانحہ ترلائی کلاں بھی مخصوص پالیسیوں کی زد میں لایا جا سکے۔
ملکی تاریخ ایسے شواہد سے بھری ہے جب کسی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ایک خاص مکتب (تشیّع) کے خلاف واقعات کرائے جاتے ہیں یا کسی پالیسی کی طرف سے توجہ ہٹانے کیلئے واقعات کرائے جاتے ہیں۔ معاملات پالیسی سے پہلے ہوں یا پالیسی کے بعد ، لیکن قربانی کا بکرا اور تختہ مشق ایک ہی مکتب فکر سے متعلقہ لوگ ہوتے ہیں۔۔
اب تو اس ملک کا بچہ بچہ جان چکا ہے کہ ایک طرف تکفیری دندنا رہے ہوتے ہیں ہزاروں جنونیوں کی موجودگی میں تکفیر کی جا رہی ہوتی ہے اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں تکفیریوں کو بے لگام چھوڑ کر ایک ماحول اور فضاء بنائی جاتی ہے جب یہ ماحول اور فضاء اپنے عروج پر آتی ہے تو ایک یا ایک سے زیادہ واقعات رونماء ہو جاتے ہیں المیہ یہ ہے کہ ان واقعات کے بعد تحقیق و تفتیش کا رُخ بیرونی عناصر کی طرف تو رکھا جاتا ہے لیکن اندرونی سازشیوں اور اندرونی اسباب کی طرف دانستہ طور پر توجہ نہیں دی جاتی۔ گمنام اور نامعلوم گروہوں کے پیچھے لاٹھی لے کر بھاگا جاتا ہے لیکن معلوم اور بدنام تکفیریوں کی طرف سے نظریں ہٹا لی جاتی ہیں یہ رویہ ، یہ انداز ، یہ نظراندازیاں اور یہ پالیسی جہاں تکفیریوں کی پشت پناہی ظاہر کرتی ہے وہاں تکفیریوں کو تحفظ فراہم کرکے محفوظ رکھنے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
سانحہ ترلائی کلاں میں بظاہر ملوث خودکش حملہ آور کے ڈیٹا اور خاندانی گرفتاریوں سے لے کر ہمسایہ ملک کی طرف سے کی گئی سازش کا ذکر تو واقعہ کے اگلے ایک دو روز میں ہو گیا تھا لیکن آج بیس دن گذرنے کے بعد کسی قسم کی پیش رفت نہیں بتائی گئی۔ نہ ہی مسجد کی سرکاری سیکیورٹی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ کیوں ناقص رکھی گئی۔
سانحہ ترلائی کلاں کے شہداء کے ورثاء و لواحقین کی بے چینی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ورثاء حکومتی مالی مدد سے آگے اصل مسائل پر سوچ رہے ہیں کہ مالی مدد کے فریب میں شہداء کا خون ضائع نہ ہو جائے وہ خواہش مند ہیں کہ انہیں ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو قانونی شکنجے میں کسنے تک ہر مرحلے پر اعتماد میں لیا جائے اور ساتھ رکھا جائے۔ شہداء کے ورثاء کو خطرہ لاحق ہے کہ مالی مدد اور طفل تسلی کے بعد خاموشی اختیار کر لی جائے گی اور واقعہ کے اصل محرکات چھپا دیئے جائیں گے لہذا ایسے مرحلے پر قومی وحدت اور قومی قیادت سے ہم آہنگی کے ساتھ لائحہ عمل اپنایا جائے گا اور اپنے حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کی جائے گی۔
ملت میں موجود کالی بھیڑوں اور شہداء کے خون سے سودا بازی کرنے والے عناصر کے باوجود ملت کو متحد و محفوظ رکھنے اور حقوق کی جدوجہد آگے بڑھانے والی قیادت بھی موجود ہے ان شاء اللہ سانحہ ترلائی کلاں کے شہداء کا لہو اپنا اثر دکھائے گا اور اندرونی و بیرونی سازشی اور سازشیں طشت از بام ہوں گی۔









آپ کا تبصرہ