پیر 2 مارچ 2026 - 19:08
ایران میں مقیم دو اہلِ سنت اداروں کی عالمِ اسلام سے امریکہ کے اخراج اور صہیونی حکومت کے خاتمے کے لیے ہمہ گیر تحریک کی اپیل

حوزہ / جمہوریہ اسلامی ایران میں مقیم اہلِ سنت مہاجرین کی اعلیٰ کونسل برائے علما و نخبگان اور جامعۃ النور الاسلامیۃ الدولیۃ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے امام خامنہ‌ای رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کو عالمِ اسلام کے استکبار کے مقابل ایک نئے مرحلے کے آغاز سے تعبیر کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ان دونوں اداروں کے مشترکہ بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ دنیا بھر میں امریکی اور اسرائیلی افواج کے خلاف ہر ممکن طریقے سے جدوجہد کریں اور اس بات کے لیے ہمہ گیر کوشش کریں کہ ان دونوں ’’شر پسند قوتوں‘‘ کا مکمل انخلاء کیا جائے اور انہیں خطے اور دنیا سے باہر نکالا جائے۔ اس بیانیہ کا مکمل متن اس طرح ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (سورہ احزاب، آیت 23)

دنیا بھر کے استکبار مخالف مسلمانوں اور ملتِ شریف ایران کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔

ایران میں مقیم اہلِ سنت مہاجرین کی اعلیٰ کونسل برائے علما و نخبگان اور جامعۃ النور الاسلامیۃ الدولیۃ، اپنے دلوں میں گہرے رنج کے ساتھ اور اپنی دینی و شرعی ذمہ داری کے تحت، بصیرت افروز فقیہ، مجاہد اور استکبار کے خلاف جدوجہد کرنے والی عظیم شخصیت، تمام استکبار مخالفین کے روحانی باپ حضرت آیت اللہ خامنہ‌ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت پر عالمِ اسلام، تمام مجاہدین اور ملتِ عظیم ایران سے تعزیت پیش کرتی ہیں۔

یہ باوقار عالم دین، گہری فقاہت، ظلم و طاغوت کے خلاف مسلسل جدوجہد اور حق و باطل کی تمیز میں بصیرت کی علامت تھے۔ انہوں نے امت مسلمہ کے وسیع نظریے کے ساتھ اسلام کے دشمنوں کے مقابل ایک مضبوط قلعہ قائم کیا۔ ایرانِ عزیز نے شد نه 37 سالہ حکیمانہ قیادت و رہبری میں حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے نورانی راستے کو قوت و استقامت کے ساتھ جاری رکھا اور دنیا میں استکبار ستیزی اور استقلال طلبی کا مرکز بن گئے۔

ہم دونوں ادارے اس بزدلانہ دہشت گردانہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں جسے امریکہ اور غاصب اسرائیل کی حکومتوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا اور اسے دشمنوں کے ایمان سے خوف کی انتہا قرار دیتے ہیں۔

ہم اس مرحوم والا مقام کے عملی اسوہ کی پیروی کرتے ہوئے اور اتحادِ اسلامی کی صدا بلند کرتے ہوئے تمام مسلمانوں اور آزاد انسانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس جرم کو اپنی مقدسات پر حملہ تصور کریں اور ہر ممکن طریقے (جسمانی، علمی، میڈیا وغیرہ) سے دنیا بھر میں امریکی اور اسرائیلی قوتوں کے خلاف جدوجہد کریں اور ان خبیثوں کی نیندیں حرام کر دیں۔ یہ شہادت مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد اور امریکہ و اسرائیل کی توسیع پسند اور شر انگیز پالیسیوں کے خلاف باوقار اور مؤثر موقف اختیار کرنے کا سبب بننی چاہیے۔ یہ ناحق بہایا گیا خون ایک ایسی صدا ہے جو ان دونوں قوتوں کی مکمل موجودگی کے خاتمے کی ہمہ گیر کوشش کی دعوت دیتا ہے۔

ہم اس سرزمین میں موجود اہلِ سنت مہاجرین، ملتِ بزرگ ایران سے اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اس ملک کے دفاع اور شہداء کے راستے کو جاری رکھنے میں ہم آخری دم تک اپنے ایرانی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ شہید کو بلند درجات عطا فرمائے اور مسلمانوں اور ملتِ ایران کو صبرِ جمیل اور شہداء کے راستے پر ثابت قدمی نصیب فرمائے۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

اعلیٰ کونسل برائے علما و نخبگان مہاجرین اہلِ سنت مقیم ایران

جامعۃ النور الاسلامیۃ الدولیۃ

10/12/1404 ہجری شمسی / یکم مارچ 2026ء

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha