حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے سعادت آباد کے شہید دادمان علاقے میں جنگی حالات کے درمیان ایرانی قوم سے اظہارِ عقیدت کے لیے قائم ایک موکب میں مولانا سید شمع محمد رضوی نے خطاب کیا، جہاں نوجوانوں اور مومنین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مرد و خواتین نے خاص طور پر ہندوستانی شیعوں کے حوالے سے مختلف سوالات کیے، جن کے تسلی بخش جوابات دیے گئے۔ یہ پروگرام رات دیر تک جاری رہا۔
اپنے خطاب میں مولانا شمع محمد رضوی نے واضح کیا کہ ان کی تینوں کتابیں نئی نہیں بلکہ پہلے بھی شائع ہو چکی ہیں، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر انہیں دوبارہ منظر عام پر لایا گیا ہے تاکہ ان کے پیغام کو نئے انداز میں پیش کیا جا سکے۔
اس موقع پر ان کی تین کتابوں کی رونمائی بھی مجمع جہانی اہل بیت ادارہ کے بین الاقوامی امور کے مدیر ڈاکٹر معینیان اور مختلف دیگر شخصیات کے ہاتھوں انجام دی گئی۔ پہلی کتاب میں رہبر معظم کی شہادت کے بعد دنیا بھر میں پائے جانے والے غم، سوگ اور اس کے اثرات کو بیان کیا گیا ہے اور اس سانحے کو ایک غیر متوقع واقعہ قرار دیا گیا ہے جس نے دنیا کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔
دوسری کتاب میں تشییع جنازہ اور اس کے بعد جاری رہنے والے غم، مجالس اور عوامی اجتماعات کا ذکر ہے، جسے ایک مسلسل جاری رہنے والی کیفیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
تیسری کتاب میں رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کے انتخاب اور اس پر قوم و ملت کے ردعمل کو بیان کیا گیا ہے، جس میں قیادت کے تسلسل اور ولایت کے نظریے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
پروگرام کے دوران تہران کے مرکزی موکب اور جوانوں کے خیام کے مسئول جناب مہدوی منش نے ان کتابوں پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “یہ کتابیں حقیقت پر مبنی اور زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ ولایتِ فقیہ کے نظریے کو سمجھے بغیر کامیاب زندگی کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ان کتابوں کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ہندوستان میں رہبرِ شہید کے نام سے ایک دینی حوزہ بھی قائم کیا گیا ہے، جو “حوزہ آیت اللہ خامنہ ای” کے نام سے ایک اہم علمی و فکری مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ مولانا سید شمع محمد رضوی، مذہبی، فکری اور انقلابی موضوعات کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے کا خاص ذوق رکھتے ہیں اور اپنے مشاہدات، ملاقاتوں اور فکری تجربات کو علمی انداز میں امت کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی یہ تازہ تصانیف بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں۔









آپ کا تبصرہ