حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک FPV ڈرون نے اسرائیلی فوج کے مرکاوا ٹینک کو "نمر الجمل" نامی نئے قائم کردہ بیس پر نشانہ بنایا۔ یہ بیس علما الشععب کے قصبے کے سامنے واقع ہے۔
ویڈیو میں واضح ہے کہ جب ڈرون ٹینک کے قریب پہنچا تو ایک صہیونی فوجی اپنی جان کے خوف سے ٹینک سے باہر نکل کر بھاگنے لگا۔ ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مزاحمتی ڈرون نے ٹینک کو نشانہ بنایا یا پھر بھاگتے ہوئے فوجی کو۔
صہیونی فوج کے تجزیہ کار "آوی اشکنازی" نے معاریو اخبار میں لکھا ہے کہ حزب اللہ روزانہ بڑی تعداد میں دھماکہ خیز ڈرون استعمال کر رہی ہے، جس سے اسرائیلی فوج کو شدید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
حزب اللہ FPV ڈرون کو مسلسل استعمال کر رہی ہے کیونکہ یہ ڈرون نہایت درستی سے حملہ کر سکتے ہیں اور انھیں الیکٹرانک جنگ کے ذریعے ہیک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر فائبر آپٹک ٹیکنالوجی سے لیس یہ ڈرون تیز رفتار ڈیٹا ٹرانسفر اور زیادہ تحفظ فراہم کرتے ہیں، جس سے ہیک ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر مزاحمتی قوتیں قبضہ کار فوجیوں کے خلاف ان ڈرونز کا کامیابی سے استعمال کر رہی ہیں۔









آپ کا تبصرہ