حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم مطهر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج کا انسان پچاس سال پہلے کے انسان سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اسی لیے ہم صرف اپنے ماں باپ کے بتائے ہوئے طریقوں سے کامیاب نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے حضرت علی(ع) کا قول نقل کیا کہ "اپنے بچوں کو انہی کے زمانے کے مطابق ڈھالو، تاکہ وہ کامیاب ہو سکیں۔"
حجۃالاسلام تراشیون نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں ہم قریب پہنچ چکے ہیں لیکن سب سے مشکل حصہ ابھی باقی ہے۔ اس مشکل مرحلے کو عبور کرنے کے لیے برداشت بہت ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گھر اور خاندان کا ماحول تحمل و استقامت کو مزید بڑھانے میں بہت کام آتا ہے۔ تاریخ میں دیکھیں تو جن لوگوں میں صبر اور قوت برداشت تھی، ان کے ساتھ اچھی بیویاں بھی تھیں۔ اگر بیوی ساتھ نہ دے تو انسان کی زیادہ توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔
حجۃ الاسلام تراشیون نے کہا کہ آج دشمن چاہتا ہے کہ ہماری برداشت ختم ہو جائے اور ہم ہار مان لیں۔ ایسے میں گھر اور خاندان بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے ماضی میں جینے سے منع کیا اور کہا کہ کامیاب لوگ نہ تو ماضی میں رہتے ہیں اور نہ ہی مستقبل کے غم رکھتے ہیں۔
زیادہ تر مسائل نادانی کی وجہ سے آتے ہیں۔ نرمی سے پیش آنا ایک بہادرانہ کام ہے جو لڑائی جھگڑے سے زیادہ اچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے۔
انہوں نے بہت زیادہ بولنے سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت علی(ع) نے فرمایا: "اچھی بات چاندی ہے لیکن حکمت والی خاموشی سونے کے برابر ہے۔"
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کی عبادت اور بندگی میں مدد کرنی چاہیے اور ایک دوسرے کی بہتری کا راستہ بنانا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ