حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ دری نجف آبادی نے کہا ہے کہ عترت رسولؐ کو قرآن کی تفسیر اور امت کی ہدایت میں خاص مقام حاصل ہے، اور "عترت" اور "امت" میں بنیادی فرق موجود ہے۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے امام رضاؑ کے حوالے سے کہا کہ عترت اطہار علیہم السلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ "ان پر صدقہ حرام ہے" جبکہ امت کے دیگر افراد پر صدقہ جائز ہے۔
انہوں نے آیت "إِنَّ اللّهَ اصْطَفَی آدَمَ..." کی روشنی میں کہا کہ جس طرح اللہ نے آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسی طرح آل محمدؑ کو بھی یہ فضیلت حاصل ہے، جسے آیت تطہیر اور آیت مباہلہ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
حدیث ثقلین کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رسول اللہؑ نے فرمایا: "میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: کتاب اللہ اور میری عترت" – یہ ثابت کرتا ہے کہ ائمہ معصومینؑ ہی عترت کے مصداق اور امت کے ہادی ہیں۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے سورہ توبہ کی آیت 60 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زکاۃ اور صدقات کا اصل مصرف فقراء اور مساکین ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جس طرح سادات کے فقراء سہم سادات اور خمس سے پورے کیے جاتے ہیں، اسی طرح غیر سادات فقراء کے لیے زکاۃ اموال اور زکاۃ فطرہ سے ان کی ضروریات پوری کرنے کا انتظام کرنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ