حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے کہا ہے کہ دحوالارض سال کے انتہائی بابرکت دنوں میں سے ہے، کیونکہ اسی روز زمینِ کعبہ ظاہر ہوئی اور پھیلی۔
انہوں نے آیت شریفہ "وَمَن یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَی الْقُلُوبِ" کی روشنی میں ہمیشہ شعائر الٰہی کی تعظیم پر تاکید کی ہے۔
دحوالارض کا مفہوم
"دحو" کے معنی پھیلانے کے ہیں۔ دحوالارض سے مراد یہ ہے کہ ابتدا میں پوری زمین پانی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ پانی آہستہ آہستہ کم ہوا اور خشکیاں پانی سے باہر نکلیں اور پھیلتی گئیں۔ یہی عمل "دحوالارض" کہلاتا ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے اپنی کتاب "صہبائے حج" میں لکھا ہے کہ کعبہ زمین پر پہلی عبادت گاہ ہے۔ امیرالمؤمنین(ع) سے روایت ہے کہ فرمایا: "پہلی رحمت جو آسمان سے زمین پر نازل ہوئی، وہ 25 ذی القعدہ کو تھی۔ جو اس دن روزہ رکھے اور رات عبادت میں گزارے، اسے سو سال کی عبادت کا ثواب ملے گا۔"
اعمالِ دحوالارض
اس دن کی بہت فضیلت ہے۔ مستحب اعمال:
· روزہ رکھنا (جس کا ثواب ۷۰ سال عبادت کے برابر ہے)
· رات جاگ کر عبادت کرنا (ایک سال عبادت کا ثواب)
· غسل کرنا
· ذکر و دعا کرنا
دعائے دحوالارض
اس دن ایک خاص دعا پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے جس کا آغاز ہوتا ہے:
"اللَّهُمَّ دَاحِی الْکَعْبَةِ وَ فَالِقَ الْحَبَّةِ..."
اس دعا میں اہل بیت(ع) پر درود بھیجنے اور امام مہدی(عج) کے ظہور میں تعجیل کی دعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی ہمیشہ شعائر الٰہی کی تعظیم اور ان دنوں کی قدر کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔









آپ کا تبصرہ