جمعہ 22 مئی 2026 - 19:22
سطحی مطالعہ اور صرف اچھی آواز کافی نہیں، مبلغِ دین کے پاس علمی گہرائی ہونی چاہیے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین مومنی نے دینی مبلغین کی علمی اور معرفتی بنیاد کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: آج تبلیغ دین کا محاذ پہلے سے کہیں زیادہ ایسے عالم دین کا محتاج ہے جو قرآن، روایت اور اجتہادی مبانی پر عبور رکھتا ہو کیونکہ بغیر علمی پشتوانہ اور متن محور گفتگو کے معاشرے کی فکری اور سماجی ضروریات کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین مومنی نے حرم حضرت معصومہ (س) کے شبستان حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا میں جامعه ایمانی مشعر کے زیر اہتمام منعقدہ بیسویں نشست "رسالات" میں خطاب کے دوران مبلغین کی علمی اور معنوی بنیاد کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: آج تبلیغ دین کا محاذ اور منبر ایسے متنی اور قرآنی گفتگو کا محتاج ہے جو قرآن، روایات اور اجتہاد پر مبنی ہو اور اگر ہم درس و بحث کے راستے سے فاصلہ اختیار کریں گے تو مستقبل میں ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوگا۔

انہوں نے طلبہ کے حوزہ علمیہ قم، حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اور مسجد مقدس جمکران سے مسلسل تعلق رکھنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: طلبہ اور مبلغین اگرچہ تبلیغی اور ثقافتی میدانوں میں سرگرم ہیں لیکن انہیں علمی مسیر سے فاصلہ نہیں لینا چاہیے۔ کم از کم مہینے میں ایک بار حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا اور مسجد مقدس جمکران کی زیارت کو اپنے پروگرام میں شامل کریں کیونکہ یہ شہداء اور بزرگان کا شیوہ رہا ہے۔

حوزہ علمیہ کے استاد نے مبلغین کے اجتہاد کے راستے میں موجود ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ضروری نہیں کہ سب توضیح المسائل ہی لکھیں لیکن انہیں آیات اور روایات سے استنباط اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ آج اگر کوئی علام دین یا مبلغ قرآن اور حدیث کی بنیاد پر بات نہیں کر سکتا تو وہ میدان ان لوگوں کے حوالے کر دے گا جو علمی چوکھٹے کے بغیر باتیں کرتے ہیں۔

انہوں نے طلبہ کو مطالعاتی منصوبہ بندی کی نصیحت کرتے ہوئے کہا: تفسیر قرآن، روایات، صحیفہ سجادیہ، نہج البلاغہ، شہید مطہری کی تصانیف اور اخلاقی و معرفتی کتابوں کا مسلسل مطالعہ مبلغین کے منصوبہ میں شامل ہونا چاہیے۔ سطحی مطالعہ اور صرف اچھی آواز پر انحصار پائیدار نہیں ہے اور مبلغ کے پاس علمی گہرائی ہونی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha