پیر 25 مئی 2026 - 13:07
انڈونیشیا میں ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف احتجاج، حکومت کو استعماری جال سے بچنے کی تنبیہ

حوزہ/ انڈونیشیا میں 36 عوامی تنظیموں پر مشتمل “آئین کے محافظ اتحاد” نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ظاہری امن پسندی اور سفارتی چالوں کے دھوکے میں نہ آئے اور ملک کی آزاد خارجہ پالیسی کو برقرار رکھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انڈونیشیا میں 36 عوامی تنظیموں پر مشتمل “آئین کے محافظ اتحاد” نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ظاہری امن پسندی اور سفارتی چالوں کے دھوکے میں نہ آئے اور ملک کی آزاد خارجہ پالیسی کو برقرار رکھے۔

رپورٹ کے مطابق، اتحاد کے اراکین نے اتوار کے روز انڈونیشیا کے شہر سربایا میں واقع سرکاری عمارت “گراہادی” کے سامنے احتجاجی اجتماع کیا۔ مظاہرین نے سامراج، بیرونی مداخلت اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی “آزاد اور غیر جانبدار” خارجہ پالیسی کو مضبوط بنائے۔

احتجاج کرنے والوں نے خاص طور پر “بورڈ آف پیس” (BOP) نامی بین الاقوامی ادارے پر شدید تنقید کی، جسے ان کے بقول غزہ میں جنگ بندی اور تعمیر نو کے نام پر قائم کیا گیا، لیکن درحقیقت یہ اسرائیلی جرائم کو جواز فراہم کرنے اور امریکی مفادات کو آگے بڑھانے کا ایک سیاسی ہتھکنڈا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پرابوا سبیانتو نے جنوری 2026 میں ڈیووس اجلاس کے موقع پر اس معاہدے پر دستخط کرکے انڈونیشیا کی آزاد سفارت کاری کو خطرے میں ڈال دیا۔

احتجاجی اجتماع کے کوآرڈینیٹر صالح اسماعیل مکدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا: “یہ کسی خاص گروہ یا جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہم ہر قسم کے استعمار اور سامراج کے خلاف ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا کو کسی بھی عالمی طاقت کے زیر اثر آنے کے بجائے اپنی آئینی پالیسی “آزاد، فعال اور استعمار مخالف” اصولوں کی طرف واپس لوٹنا چاہیے، جو 1955 کی ایشیا-افریقہ کانفرنس کی روح سے ہم آہنگ ہے۔

مظاہرین نے غزہ میں جاری انسانی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا پر اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مظلوم اقوام، خصوصاً فلسطینی عوام، کی حمایت میں دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔

احتجاج کے دوران شرکاء نے فلسطین کی آزادی، سامراج مخالف جدوجہد اور عالمی انصاف کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے نعرہ لگایا: “دنیا بھر میں استعمار کا خاتمہ کرو، انڈونیشیا کو آزاد اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی کی طرف واپس لاؤ، اور مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑے رہو۔”

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha