حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ حسین آباد ٹرسٹ کی زمینوں پر ناجائز قبضے ، غیر قانونی تعمیرات ،بننے جارہی پارکنگ اور لذیذ گلی کے خلاف آج علمائے کرام کا ایک مشاورتی جلسہ چھوٹے امام باڑے میں منعقد ہوا ۔
اس سے پہلے ضلع انتظامیہ کے افسران نے مولانا کلب جواد نقوی اور علماء سے مولانا کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔علماء نے واضح الفاظ میں کہا کہ ٹرسٹ کی زمین پر کوئی کام شروع نہیں ہوگا ۔ ضلع انتظامیہ نے کہا کہ ٹرسٹ کی زمین پر کوئی تعمیراتی کام نہیں ہوگا ،حتی کہ لذیذ گلی کا کام بھی روک دیا گیا ہے ۔ علماء نے پرشاسن کے سامنے اپنے مطالبات رکھے اور کہا کہ اگر مطالبات نہیں مانے گئے تو عوامی تحریک شروع کریں گے ۔
مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ اگر ٹرسٹ کی زمین پر کوئی تعمیراتی کام شروع ہوا تو ہم بڑا عوامی احتجاج کریں گے ۔ ہمیں ٹرسٹ کی زمین پر نہ پارکنگ قبول ہے اور نہ لذیذ گلی ۔ مولانا نے کہا کہ ٹرسٹ کی کمیٹی موجود نہیں ہے تو پھر ضلع مجسٹریٹ کس کمیٹی کے چیئر مین ہیں،یہ بتایا جائے ۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹرسٹ کی کمیٹی جلد از جلد تشکیل دی جائے ۔
مولانا نے کہا کہ ہم اپنے علماء اور وکلاء سے مشوروں کے بعد آگے کا لایحہ عمل طے کریں گے کیونکہ ابھی ٹرسٹ میں بہت سے مسائل موجود ہیں جنکو حل کیاجاناضروری ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہم نے واضح طور پر پرشاسن سے کہا ہے کہ ہم ٹرسٹ کی زمین پر کوئی قبضہ برداشت نہیں کریں گے ۔ انھوں نے کہا کہ امام باڑوں کے تقدس اور دیگر مسائل پر بھی پرشا سن سے بات ہوئی ہے جس کا لایحہ عمل طے کیا جائے گا ۔
مولانا نے کہا کہ حسین آباد ٹرسٹ میں بغیر کمیٹی تشکیل دئیے ضلع مجسٹریٹ کوئی اقدام نہیں کرسکتا ۔ اس لئے ضلع مجسٹریٹ غیر قانونی کام کر رہے ہیں کیونکہ ٹرسٹ کی کوئی کمیٹی موجود نہیں ہیں ۔ آخر جب کمیٹی موجود نہیں ہے تو ڈی ایم چیئر مین کس کمیٹی کے ہیں؟
مولانا سیف عباس نقوی نے کہا کہ پرشاسن سے گفت و شنید ہوئی ہے اور ہمارے مطالبے پر پارکنگ اور لذیذ گلی کا کام روک دیا گیا ہے ۔ مولانا نے کہا کہ اب ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹرسٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ اگر ہمارے مطالبات نہیں مانے گئے تو ہم عوامی تحریک شروع کریں گے ۔
جلسے میں مولانا کلب جواد نقوی ،مولانا سیف عباس نقوی ،مولانا فرید الحسن ،مولانا رضا حیدر ،مولانا تنویر عباس ،مولانا رضا حسین ،مولانامصطفیٰ علی خان،مولانا علمدار حسین ،مولانا حسنین باقری ،ڈاکٹر کلب سبطین نوری ،مولانا غلام رضا ،مولانا افضل عباس ،مولانا غضنفر نواب ، مولانا شفیق عابدی ،مولانا قمر الحسن ،مولانا افضال عابدی ،مولانا ناصر عباس ،مولانا شباہت حسین ، مولانا ڈاکٹر علی سلمان ،مولانا کلب احمد ،مولانا آصف علی غدیری ،مولانا نفیس اختر ،مولانا جاوید عباس ،مولانا تفسیر حسین ،مولانا عمران احمد،مولانا نظر عباس ،مولانا سہیل عباس ،انکے علاوہ انجمن ہائی ماتمی کے اراکین موجود تھے ۔









آپ کا تبصرہ