حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس علمائے ہند کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حسین آباد ٹرسٹ کی زمینوں پر مبینہ ناجائز قبضوں اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف علماء اور انجمن ہائی ماتمی کے اراکین نے جمعہ کے روز موقع پر پہنچ کر معائنہ کیا اور رومی گیٹ کے قریب مجوزہ پارکنگ اور ’’لذیذ گلی‘‘ منصوبے پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔
اس سلسلے میں نماز جمعہ کے بعد علماء، انجمن ہائی ماتمی کے اراکین اور بڑی تعداد میں نمازی آصفی مسجد سے رومی گیٹ کی جانب روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے حسین آباد ٹرسٹ کی زمینوں پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ مظاہرین ٹرسٹ کی املاک پر مبینہ ناجائز قبضوں کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے۔
اس موقع پر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ ٹرسٹ کی زمینوں پر کسی بھی قسم کی ناجائز تعمیرات برداشت نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی پارکنگ یا دیگر منصوبوں کے نام پر زمینوں پر قبضہ ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حسین آباد ٹرسٹ کے معاملات کی نگرانی کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے، جس کے بغیر انتظامیہ سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
مولانا کلب جواد نقوی نے الزام عائد کیا کہ ٹرسٹ کی زمینوں پر ضلع انتظامیہ کی نگرانی میں مسلسل غیر قانونی تعمیرات اور قبضے ہو رہے ہیں، جبکہ ٹرسٹ کی آمدنی اور املاک کا کوئی شفاف حساب موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ سے متعلق فیصلے یکطرفہ طور پر نہیں کیے جا سکتے اور اس حوالے سے علماء، رائل فیملی اور ذمہ دار افراد کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر تعمیراتی کام نہ روکا گیا اور مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مستقبل کا لائحۂ عمل علماء اور انجمن ہائے ماتمی سے مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔
اس موقع پر مولانا سیف عباس نقوی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض خطوط گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرسٹ کی زمینوں پر کسی بھی مبینہ ناجائز قبضے یا غیر قانونی تعمیرات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
معائنہ اور احتجاجی جائزے میں مولانا محمد میاں عابدی، مولانا رضا حسین رضوی، مولانا اختر عباس جون، مولانا رضا حیدر زیدی، ڈاکٹر کلب سبطین نوری، مولانا فرید الحسن، مولانا علی نقی، مولانا حیدر عباس رضوی، مولانا سراج حسین، مولانا شباہت حسین، مولانا قربان علی، مولانا قمر الحسن، مولانا شفیق عابدی اور دیگر علماء کے علاوہ انجمن ہائے ماتمی کے اراکین بھی موجود تھے۔









آپ کا تبصرہ