ظہورِ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور حکومتِ مہدوی میں خواتین کا مقام و کردار (حصہ اوّل)

حوزہ/ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خواتین اور مرد دونوں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اہداف کی تکمیل میں برابر کے شریک ہیں۔ قرآنِ کریم اور اسلامی معارف اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ایک صالح اور توحیدی معاشرے کی تشکیل مرد و زن دونوں کی معنوی، سماجی اور سیاسی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے ممکن ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خواتین اور مرد دونوں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اہداف کی تکمیل میں برابر کے شریک ہیں۔ قرآنِ کریم اور اسلامی معارف اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ایک صالح اور توحیدی معاشرے کی تشکیل مرد و زن دونوں کی معنوی، سماجی اور سیاسی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے ممکن ہے۔ اسی تناظر میں ظہورِ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور حکومتِ مہدوی کے قیام میں خواتین کے کردار اور مقام کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ظہور اور حکومتِ امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے متعلق اہم مباحث میں سے ایک موضوع خواتین کا مقام اور ظہور و حکومتِ مہدوی کے عمل میں ان کے کردار کا ہے۔

اس بحث میں داخل ہونے سے پہلے خواتین کے سیاسی اور سماجی مقام کے بارے میں قرآن کریم کی روشنی میں شہید امام، حضرت آیت اللہ خامنہ‌ای کے نقطۂ نظر کا ایک گوشہ پیش کیا جاتا ہے:

«اسلام میں عورت کی بیعت، عورت کی ملکیت اور سیاسی و سماجی میدانوں میں اس کی شرکت کو تسلیم کیا گیا ہے: "إِذَا جَائَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ" (الممتحنہ: 12)۔ عورتیں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرتی تھیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف مرد بیعت کریں اور عورتیں ان کے فیصلوں کی تابع ہوں؛ بلکہ فرمایا گیا کہ عورتیں بھی بیعت کریں گی۔ اس طرح وہ بھی اس حکومت اور اس سماجی و سیاسی نظام کو قبول کرنے میں شریک ہیں۔»

اسی طرح آپ فرماتے ہیں:

«اسلام جب یہ کہتا ہے: "وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ" (التوبہ: 71)، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں معاشرتی نظام کی حفاظت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں برابر کی شریک ہیں۔ اسلام نے عورت کو اس ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا اور نہ ہی ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کی تعمیر اور اس کی ترقی کی ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے؛ مرد پر بھی اور عورت پر بھی، ہر ایک اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق۔»

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں معنوی اقدار کے دس ایسے عناوین بیان فرمائے ہیں جن میں مرد اور عورت دونوں کو یکساں شریک قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ صفات ہیں جن سے آراستہ ہوئے بغیر وہ توحیدی معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا جو دینِ اسلام کے زیرِ سایہ تشکیل پانا ہے۔

«إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا.»(احزاب/ ۳۵)

ترجمہ: یقیناً مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، سچے مرد اور سچی عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، خشوع رکھنے والے مرد اور خشوع رکھنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، پاکدامن مرد اور پاکدامن عورتیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں؛ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے مغفرت اور عظیم اجر تیار کر رکھا ہے۔

پس کیا یہ ممکن ہے کہ انسانیت کے نجات دہندہ کے ظہور اور ان کی حکومت کے قیام میں خواتین کے کسی کردار کو تسلیم نہ کیا جائے؟ کیا الٰہی مشن کی تکمیل میں خواتین کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟

خواتین بھی مردوں کی طرح الٰہی مقاصد کے تحقق کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور کوششوں کو بروئے کار لانے کی پابند ہیں۔ درحقیقت ان کے کردار کے بغیر اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی تکمیل ممکن نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت دونوں کو معنوی اقدار سے آراستہ ہونے کا حکم دیا ہے، کیونکہ زمین کے حقیقی وارث صرف صالح انسان اور صالح معاشرہ ہی بن سکتے ہیں۔

«وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ»(انبیاء/ ۱۰۵)

ترجمہ: اور ہم نے زبور میں ذکر (تورات) کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔

مذکورہ مطالب سے واضح ہوتا ہے کہ معاشرے کی خواتین بھی مردوں کی مانند الٰہی اہداف کے حصول کے راستے میں عمومی ذمہ داریوں اور فرائض کی حامل ہیں، جن پر توجہ دینا ان کے لیے ضروری ہے۔ البتہ خواتین کے بعض ایسے خصوصی اور منفرد کردار بھی ہیں جو ان کی فطری اور معاشرتی خصوصیات سے متعلق ہیں۔ ان شاء اللہ آئندہ بحث میں ان پہلوؤں پر گفتگو کی جائے گی۔

جاری ہے۔۔۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha