بدھ 22 جولائی 2026 - 12:47
ظہور میں تعجیل کے لیے منتظرین کے سماجی پہلو

حوزہ/مہدویت کے ماہر اور محقق نے منتظِرین امام زمانہ علیہ السّلام کے اُن سماجی پہلوؤں کا ذکر کیا جو ظہور تک پہنچنے والے معاشرے سے متعلق ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مہدویت کے ماہر اور محقق حجت الاسلام والمسلمین فلاح نے حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے سے گفتگو میں کہا کہ انتظار کے سماجی پہلوؤں کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ ’انتظار‘ کے سماجی ابعاد بھی ہیں، تو اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کی پوری معاشرے کو اس سلسلے میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر وہ اپنا فرض ادا نہ کریں تو نہ صرف اپنا فرض مکمل طور پر ادا نہیں کریں گے، بلکہ اس کے نتائج اور ثمرات یعنی حضرت ولیِ خدا، امام مہدیؑ کے ہاتھوں عالمی عدل کی حکومت کے قیام سے بھی محروم رہ جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کے انفرادی پہلوؤں کے ساتھ سماجی پہلو بھی ہیں۔ جس طرح مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح اسے معاشرے میں قائم کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص نماز پڑھ لے تو اس نے اپنا انفرادی فریضہ ادا کر لیا اور نماز پڑھنے کے انفرادی ثمرات سے مستفید ہو جائے گا؛ لیکن صرف انفرادی طور پر نماز پڑھنا، معاشرے میں نماز قائم کرنا نہیں کہلاتا۔ جو شخص نماز کی ثقافت کو عام کرنے اور اسے فروغ دینے کی کوشش نہ کرے، اس نے درحقیقت اپنا وہ سماجی فریضہ ادا نہیں کیا جو نماز کو معاشرے میں قائم کرنا تھا۔ نتیجتاً وہ نماز کے سماجی اثرات سے بھی محروم رہے گا۔

حجت الاسلام فلاح نے کہا کہ جیسے کھیل کے میدان میں فٹبال ایک اجتماعی کھیل ہے۔ اگر دفاعی پوزیشن پر کھڑا کھلاڑی اپنا کام تنہا بہت اچھے سے کرے، لیکن پوری ٹیم اجتماعی فرائض میں سستی کرے تو شاید وہ ٹیم گول نہ کھائے، لیکن جیت بھی نہیں سکے گی۔ ممکن ہے انفرادی طور پر اچھا کام کرنے والے کھلاڑی کی تعریف ہو جائے، مگر پوری ٹیم کو کبھی سراہا نہیں جائے گا۔

حوزہ علمیہ کے استاد نے کہا کہ انتظار کے معاملے میں بھی یہی اصول ہے۔ اگر ہر فرد اپنا انفرادی فریضہ احسن طریقے سے ادا کرے تو شاید وہ انفرادی طور پر اجر کا مستحق ہو جائے؛ لیکن اگر شیعہ معاشرہ اجتماعی طور پر اپنے فرائض انجام نہ دے تو وہ ہرگز اس اجتماعی نتیجے اور اجر کا مستحق نہیں ہوگا۔

انتظار کے اجتماعی پہلو کی تبیین

انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ "انتظار" سے متعلق روایات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ائمۂ دین علیہم السلام اپنے پیروکاروں کو "انتظار" کی ترغیب ایک "عمل" اور "کوشش" کے طور پر دیتے تھے۔ لیکن یہاں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ یہ عمل کس قسم کا عمل ہے؟ کیا یہ ایک انفرادی عمل ہے؟ یا ایک اجتماعی عمل ہے؟ یا پھر نماز کی طرح ایسا عمل ہے جس کے انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلو ہیں؟

حجت الاسلام والمسلمین فلاح صاحب نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ روایات کی روشنی میں اولیائے دین کبھی "انتظار" کو ایک "انفرادی عمل" کے طور پر بیان فرماتے تھے اور کبھی "اجتماعی عمل" کے طور پر۔

انہوں نے کہا کہ ائمۂ دین کے آثار و تعلیمات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مقامات پر "انتظار" کو اپنے پیروکاروں کے لیے ایک انفرادی عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

چنانچہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ سے منقول ہے:

«أَفْضَلُ عَمَلِ‌ الْمُؤْمِنِ‌ انْتِظَارُ الْفَرَجِ»

ترجمہ:مؤمن کا سب سے افضل عمل فرج کا انتظار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مبارک حدیث میں مولائے متقیان حضرت علیؑ نے "انتظار" کو مؤمن کا سب سے افضل "عمل" قرار دیا ہے۔ اس جملے میں دو لفظ آئے ہیں: "عمل" اور "مؤمن"، جنہیں حضرت نے مفرد یعنی واحد کے صیغے میں استعمال فرمایا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں انفرادی طرزِ عمل کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی ایک مؤمن فرد کو "انتظار" کے سلسلے میں کوئی کام کرنا ہے تاکہ وہ اس کا سب سے افضل عمل شمار ہو۔

امام سجادؑ نے بھی ارشاد فرمایا: «مَنْ‌ ثَبَتَ‌ عَلَی‌ مُوَالاتِنَا فِی‌ غَیْبَةِ قَائِمِنَا أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَجْرَ أَلْفِ شَهِیدٍ مِنْ شُهَدَاءِ بَدْرٍ وَ أُحُدٍ»

ترجمہ: جو شخص ہمارے قائمؑ کی غیبت کے زمانے میں ہماری محبت بھری ولایت پر ثابت قدم رہے، اللہ تعالیٰ اسے بدر اور احد کے ایک ہزار شہداء کے برابر اجر عطا فرمائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس حدیث میں امام چہارمؑ نے قائمؑ کی غیبت کے دور میں اہلِ بیتؑ کی ولایت پر ثابت قدمی کو ایک فرد کے ذمے قرار دیا ہے۔ لفظ «مَن ثبَتَ» اس فرد کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اہلِ بیتؑ کی ولایت پر قائم رہا ہے۔ اور اسی بنا پر وہ "انفرادی اجر" کا مستحق قرار پایا ہے اور وہ اجر ہے: بدر و احد کے ایک ہزار شہداء کے برابر ثواب۔

انتظار اور سماجی کوششیں

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حصے میں جن روایات کا ذکر ہوا، ان کے علاوہ اگر اولیائے دین کے دیگر فرامین پر بھی غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض مقامات پر "انتظار" کا موضوع انفرادی اعمال کی حد سے بڑھ کر بیان ہوا ہے۔ ائمہؑ نے "انتظار" کے سلسلے میں سماجی طرزِ عمل کی بھی سفارش فرمائی ہے۔

امام حسن عسکریؑ سے نبی اکرمؐ کے حوالے سے منقول ہے: «أَفْضَلُ أَعْمَالِ‌ أُمَّتِی‌ انْتِظَارُ الْفَرَجِ»

ترجمہ: میری امت کے سب سے افضل اعمال میں سے فرج کا انتظار کرنا ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین فلاح نے کہا کہ اس روایت پر غور اور اس کا موازنہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ سے منقول سابقہ روایت سے کرنے پر یہ فرق واضح ہوتا ہے کہ یہاں رسولِ خداؐ نے "انتظار" کا تعارف اور اس کی ترغیب کے لیے لفظ «أَعْمَالِ‌ أُمَّتِی» استعمال فرمایا ہے۔

یہاں "اعمال" کو کسی ایک فرد یا چند افراد کی طرف منسوب نہیں کیا گیا، بلکہ "امت" کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یعنی وہ کام جو "امتِ اسلام" کی جانب سے سرزد ہونا چاہیے۔ یہ لفظ اجتماعی طرزِ عمل اور سماجی کوش پر دلالت کرتا ہے۔

انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ لغت دانوں نے "امت" کی تعریف میں لکھا ہے: ہر وہ گروہ اور جمعیت جسے ایک مشترکہ مقصد جوڑتا ہو: خواہ وہ دین و آئین میں اشتراک ہو، یا ایک ہی زمانے اور عصر میں ہونا، یا کسی ایک جگہ کا ہونا؛ چاہے یہ وحدت اختیاری ہو یا غیر اختیاری۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے:

اگر رسولِ خداؐ کی امت کا بہترین عمل کچھ افراد یا ہر فرد الگ الگ انجام دے، لیکن اسے اجتماعی پہلو حاصل نہ ہو تو کیا اسے 'امت کا عمل' کہا جا سکتا ہے؟

میرے نزدیک شیعہ معاشرہ تب ہی رسولِ خداؐ کی اس سفارش پر عمل کر سکتا ہے جب وہ سب مل کر "عام اجتماعی" طور پر حضرت مہدیِ موعودؑ کی عالمی حکومت کے قیام کے لیے زمینہ سازی میں مصروف ہو جائیں۔

حجت الاسلام والمسلمین فلاح نے مزید کہا کہ اگر عملی مثال کے طور پر کسی ایسے کام کی طرف اشارہ کرنا ہو جو اجتماعی فعالیت ہو اور اہلِ بیتؑ نے اس کا مطالبہ کیا ہو تو اس روایت کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:

«وَ لَوْ أَنَّ أَشْیَاعَنَا [وَفَّقَهُمُ‌ اللَّهُ لِطَاعَتِهِ] عَلَی اجْتِمَاعِ الْقُلُوبِ ِ فِی الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ عَلَیْهِم‌ لَمَا تَأَخَّرَ عَنْهُمُ الْیُمْنُ بِلِقَائِنَا»

ترجمہ: اگر ہمارے پیروکار، جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت کی توفیق دےـ اپنے اوپر عائد عہد کی وفاداری میں دل سے متحد ہو جائیں تو ہمارے دیدار کی سعادت ان سے مؤخر نہ ہوتی۔

انہوں نے وضاحت کی: اس روایت میں ولیِ خدا سے کیے گئے عہد کی وفاداری میں "دلوں کو جمع کرنے" کی ذمہ داری پوری شیعہ معاشرے کو سونپی گئی ہے۔ اسی لیے فرمایا *«وَ لَوْ أَنَّ أَشْیَاعَنَا» نہ کہ «مَن وَفا بِعَهدِهِ مع مولاه» اور اسی تناظر میں بیان کردہ اجر بھی ایک "اجتماعی اجر" ہے، یعنی: "یمنِ لقاءِ المهدی" جو حجتِ خدا کے ظہور سے حاصل ہو گا۔

مہدویت کے ماہر نے یاد دہانی کروائی کہ اگر یہ عہد پر استقامت صرف چند شیعہ افراد سے سرزد ہو تو اس مطلوبہ نتیجے کو حاصل نہیں کیا جا سکتا جو اس مبارک توقیع میں بیان ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، حجتِ خدا کے ظہور تک پہنچنے کی سعادت اور آپؑ سے ملاقات کی برکت اسی وقت شیعوں کو نصیب ہو گی جب وہ سب اجتماعی اقدام کے ذریعے امامِ زمانہؑ سے کیے گئے عہد کی وفاداری میں دل سے متحد ہوں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ غیبت کے دور میں شیعہ پر لازم ہے کہ وہ اپنے "انتظار" کو انفرادی اور اجتماعی دونوں میدانوں میں آگے بڑھائے اور تبھی وہ تنہائی سے نکل کر عالمی حکومتِ عدل کے قیام کے لیے حقیقی زمینہ سازی کر سکے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha