منگل 9 جون 2026 - 21:25
روز مباہلہ؛ حق و باطل کے آشکار ہونے کا دن

حوزہ/ رہبر شہید (رہ) آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مباہلہ کے دن کے استثنائی ہونے کو "حق و باطل کے آشکار ہونے" اور "حق و باطل کی سرحد میں فرق" قرار دیتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روزِ مباہلہ کے موقع پر، آیت اللہ الشہید خامنہ ای (رضوان اللہ تعالی علیہ) کے بیانات سے اقتباس شائع کیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے اس موضوع کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ یہ بیانات انہوں نے ۲۲ آذر ۱۳۸۸ (۱۳ دسمبر ۲۰۰۹) کو بیان کئے تھے:

روزِ مباہلہ وہ دن ہے جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سب سے عزیز افراد کو میدان میں لاتے ہیں۔

مباہلہ کے بارے میں اہم نکتہ یہ ہے: اس میں "وَانفُسَنَا وَانفُسَکُم" (ہماری اپنی جانیں اور تمہاری اپنی جانیں) ہے، اس میں "وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَکُم" (ہماری عورتیں اور تمہاری عورتیں) ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے عزیز ترین انسانوں کا انتخاب کرتے ہیں اور انہیں اس محاجه (مناظرہ) کے لیے میدان میں لاتے ہیں جس میں حق اور باطل کے درمیان تمیز اور ایک روشن شاخص کا ہر ایک کے سامنے آنا ہے۔

روز مباہلہ؛ حق و باطل کے آشکار ہونے کا دن

اس کی کوئی مثال نہیں ہے کہ دین کی تبلیغ اور حقیقت کے اظہار کی راہ میں کوئی پیغمبر اپنے عزیزوں، اپنی اولاد، اپنی بیٹی اور امیر المؤمنین (ع) کو – جو ان کے بھائی اور جانشین ہیں – ساتھ لے کر میدان کے بیچ میں لے آئے۔ مباہلہ کے دن کی استثنائی حیثیت اسی شکل میں ہے۔

یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقت کا اظہار، حقیقت کا پہنچانا کتنا اہم ہے۔ وہ اس دعوے کے ساتھ میدان میں لاتے ہیں کہ کہتے ہیں: آؤ ہم مباہلہ کریں، جو حق پر ہو وہ سلامت رہے اور جو باطل پر ہو وہ خدا کے عذاب سے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha